حدیث نمبر: 14764
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ نَائِمٌ أَوْ يُوحَى إِلَيْهِ ، وَإِذَا حَيَّةٌ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهَا فَأُوقِظَهُ ، فَاضْطَجَعْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْحَيَّةِ ، فَإِنْ كَانَ شَيْءٌ كَانَ بِي دُونَهُ ، فَاسْتَيْقَظَ ، وَهُوَ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ : إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الْآيَةَ . قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ " . فَرَآنِي إِلَى جَانِبِهِ قَالَ : " مَا أَضْجَعَكَ هَهُنَا ؟ " . قُلْتُ : لِمَكَانِ هَذِهِ الْحَيَّةِ قَالَ : " قُمْ إِلَيْهَا فَاقْتُلْهَا " . فَقَتَلْتُهَا ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ ، سَيَكُونُ بَعْدِي قَوْمٌ يُقَاتِلُونَ عَلِيًّا ، حَقٌّ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى جِهَادُهُمْ ، فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ جِهَادَهُمْ بِيَدِهِ فَبِلِسَانِهِ ، فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ لَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ شَيْءٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَيَحْيَى بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفُرَاتِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت سو رہے تھے یا شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی ، گھر کے کونے میں ایک سانپ موجود تھا ، مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اسے قتل کر کے آپ کو بیدار کر دوں ، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سانپ کے درمیان لیٹ گیا کہ اگر کچھ ہوا بھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں ہو گا ، مجھے ہو گا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ یہ آیت تلاوت کر رہے تھے : ” بے شک تمہارا ولی اللہ ہے ، اور اس کا رسول ہے ، اور ایمان والے ہیں ۔ “ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمدللہ کہا: اور پھر جب آپ نے مجھے اپنے پہلو کی طرف دیکھا ، تو فرمایا : تم یہاں کیوں لیٹے ہوئے ہو ؟ میں نے عرض کی : اس سانپ کی وجہ سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اٹھ کر اس کے پاس جاؤ اور اسے قتل کر دو ! میں نے اس سانپ کو قتل کر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا : ” اے ابورافع ! میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے جو علی کے ساتھ جنگ کریں گے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ( لوگوں پر ) یہ لازم ہے کہ وہ ان کے ساتھ جہاد کریں ، جو شخص ان کے ساتھ اپنے ہاتھ کے ذریعے جہاد کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ اپنی زبان کے ذریعے ایسا کرے ، جو اپنی زبان کے ذریعے ایسا نہ کر سکتا ہو ، وہ اپنے دل کے حوالے سے ایسا کرے ، اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ بن ابورافع ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اور ایک راوی یحیی بن حسین فرات ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14764
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (955)»