مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قِتَالِهِ وَمَنْ يُقَاتِلُهُ . باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جنگ کرنا اور اس شخص کا بیان ، جو ان کے ساتھ جنگ کرے گا
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ عَلَيْنَا مِنْ بَعْضِ بُيُوتِ نِسَائِهِ قَالَ : فَقُمْنَا مَعَهُ فَانْقَطَعَتْ نَعْلُهُ ، فَتَخَلَّفَ عَلَيْهَا عَلِيٌّ يَخْصِفُهَا ، وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَضَيْنَا مَعَهُ ، ثُمَّ قَامَ يَنْتَظِرُهُ وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ هَذَا الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ " . فَاسْتَشْرَفْنَا وَفِينَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، فَقَالَ : " لَا . وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ " . قَالَ : فَجِئْنَا نُبَشِّرُهُ قَالَ : فَكَأَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ بیٹھے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے ، آپ اپنی ایک زوجہ محترمہ کے گھر سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے ، آپ کا جوتا ٹوٹ گیا تھا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کی خاطر پیچھے رہ گئے تھے ، وہ اسے مرمت کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، آپ کے ساتھ ہم بھی گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا انتظار کرنے لگے ، آپ کے ساتھ ہم بھی کھڑے رہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے بعض ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اس قرآن کی تفسیر کے حوالے سے ( بدمذہبوں کے ساتھ ) جنگ کریں گے ، جس طرح میں نے اس کے نزول کے حوالے سے جنگ کی ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : ہم نے تمام افراد کو دیکھنا شروع کیا ، ہمارے درمیان سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ کام وہ شخص کرے گا جو جوتوں کو مرمت کر رہا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم آئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خوشخبری دی تو یوں لگا جیسے وہ یہ بات سن چکے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف فطر بن خلیفہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔