حدیث نمبر: 14762
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ فِيكَ مَثَلًا مِنْ عِيسَى ، أَبْغَضَتْهُ الْيَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ ، وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلِ الَّذِي لَيْسَ بِهِ " . ¤ أَلَا وَإِنَّهُ يَهْلِكُ فِيَّ اثْنَانِ : مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ ، وَمُبْغِضٌ : يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي ، أَلَا وَإِنِّي لَسْتُ بِنَبِيٍّ ، وَلَا يُوحَى إِلَيَّ ؛ وَلَكِنِّي أَعْمَلُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ مَا اسْتَطَعْتُ ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ فَحَقٌّ عَلَيْكُمْ طَاعَتِي فِيمَا أَحْبَبْتُمْ وَكَرِهْتُمْ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَأَبُو يَعْلَى أَتَمَّ مِنْهُ ، وَفِي إِسْنَادِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي يَعْلَى الْحَكْمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْقُرَشِيُّ الْكُوفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا : ” تمہارے اندر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے طرح کا ایک پہلو پایا جاتا ہے ، یہودیوں نے ان سے بغض رکھا تو ان کی والدہ پر بھی الزام لگا دیا اور عیسائیوں نے ان سے محبت رکھی تو انہیں ایسے مقام پر پہنچا دیا ، جو ان کا نہیں تھا ۔ “ ( پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) خبردار میرے بعد دو قسم کے لوگ ہلاکت کا شکار ہوں گے ، محبت رکھنے والا ایسا شخص جو افراط سے کام لے گا ، اور وہ مجھے ایسی چیزوں سے منسوب کر دے گا جو مجھ میں نہیں ہیں ، اور بغض رکھنے والا وہ شخص کہ اس کی میرے ساتھ دشمنی اسے اس بات پر مجبور کر دے گی کہ وہ مجھ پر جھوٹا الزام لگائے ، خبردار ! میں نہ تو نبی ہوں اور نہ ہی میری طرف وحی کی جاتی ہے ، بلکہ میں اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت پر اپنی استطاعت کے مطابق عمل کرتا ہوں ، میں اللہ کی اطاعت کے بارے میں تمہیں جو حکم دوں ، تو تم پر یہ لازم ہے کہ تم میری اطاعت کرو ، خواہ تمہیں یہ بات پسند ہو یا ناپسند ہو ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، اور بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ابویعلیٰ نے اسے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، عبداللہ اور ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، بزار کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر قرشی کوفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14762
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2566)»