مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَنْ يُحِبُّهُ أَيْضًا ، وَيَبْغَضُهُ [ أَوْ يَسُبُّهُ ] . باب: اس شخص کا بیان ، جو ان سے محبت رکھتا ہے ، جو ان سے بغض رکھتا ہے ، یا جو انہیں برا کہتا ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطَيْرٍ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ " . فَجَاءَ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ وَإِلَيَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ شَيْخٌ يَرْوِي عَنْهُ سُلَيْمَانُ بْنُ قِرْمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پرندے ( کا گوشت ) لایا گیا ، تو آپ نے فرمایا : اے اللہ ! تو میرے پاس اپنے نزدیک اپنی مخلوق میں سے پسندیدہ ترین فرد کو لے آ ! تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! یہ ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) میرے نزدیک بھی ( سب سے زیادہ محبوب ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید ہے ، جو ایک بزرگ ہے ، سلیمان بن قرم نے اس سے روایت نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔