مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَنْ يُحِبُّهُ أَيْضًا ، وَيَبْغَضُهُ [ أَوْ يَسُبُّهُ ] . باب: اس شخص کا بیان ، جو ان سے محبت رکھتا ہے ، جو ان سے بغض رکھتا ہے ، یا جو انہیں برا کہتا ہے
وَعَنْ سَفِينَةَ - وَكَانَ خَادِمًا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَوَائِرُ فَصَنَعْتُ لَهُ بَعْضَهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَيْتُهُ بِهِ ، فَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا ؟ " . فَقُلْتُ : مِنَ الَّتِي أَتَيْتُ بِهِ أَمْسَ ، فَقَالَ : " أَلَمْ أَقُلْ لَكَ لَا تَدَّخِرَنَّ لِغَدٍ طَعَامًا ، لِكُلِّ يَوْمٍ رِزْقُهُ ؟ " . ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَدْخِلْ عَلَيَّ أَحَبَّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا الطَّيْرِ " . فَدَخَلَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : " اللَّهُمَّ وَإِلَيَّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ پرندے تحفے کے طور پر پیش کیے گئے ، میں نے ان میں سے کچھ آپ کے لئے تیار کیے ، صبح کے وقت میں انہیں لے کے آپ کے پاس آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہاں سے آئے ہیں ، میں نے عرض کی : یہ وہی ہیں جو گزشتہ شام آپ کے پاس لائے گئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا: تھا کہ تم نے کل کے لئے کھانے کی کوئی چیز سنبھال کے نہیں رکھنی ہے ، ہر دن کے لئے مخصوص رزق ہوتا ہے ، پھر آپ نے دعا کی : اے اللہ ! میرے پاس اپنی مخلوق میں سے اپنے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ترین فرد کو لے آ ! تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! یہ ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) میرے نزدیک بھی ( سب سے زیادہ محبوب ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف فطر بن خلیفہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔