حدیث نمبر: 14729
وَعَنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : لَمَّا سَارَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى خَيْبَرَ جَعَلَ عَلِيًّا عَلَى مُقَدِّمَتِهِ ، فَقَالَ : " مَنْ دَخَلَ النَّخْلَ فَهُوَ آمِنٌ " . فَلَمَّا تَكَلَّمَ بِهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَادَى بِهَا عَلِيٌّ ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَضْحَكُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يُضْحِكُكَ ؟ " . قَالَ : إِنِّي أُحِبُّهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ : " إِنَّ جِبْرِيلَ يَقُولُ : إِنِّي أُحِبُّكَ " . فَقَالَ : وَبَلَغْتُ أَنْ يُحِبَّنِي جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ . وَمَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْ جِبْرِيلَ . اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نَصْرُ بْنُ مُزَاحِمٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو آپ نے ہر اول دستے کا امیر مقرر کیا ، آپ نے ارشاد فرمایا : جو شخص کھجور کے باغ میں داخل ہو گا ، وہ محفوظ شمار ہو گا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں بات چیت کی ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں اسے دہرا دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا کہ وہ ہنس رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کیوں ہنس رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : میں ان سے ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ) محبت رکھتا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جبرائیل یہ کہہ رہا ہے : میں تم سے محبت رکھتا ہوں ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا میری یہ حیثیت ہے کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام مجھ سے محبت رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اور جو جبرائیل سے بہتر ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ ( یعنی وہ بھی تم سے محبت رکھتا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن مزاحم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14729
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7145)»