مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَنْ يُحِبُّهُ أَيْضًا ، وَيَبْغَضُهُ [ أَوْ يَسُبُّهُ ] . باب: اس شخص کا بیان ، جو ان سے محبت رکھتا ہے ، جو ان سے بغض رکھتا ہے ، یا جو انہیں برا کہتا ہے
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَطْيَارٌ ، فَقَسَّمَهَا بَيْنَ نِسَائِهِ ، فَأَصَابَ كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْهَا ثَلَاثَةٌ ، فَأَصْبَحَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ - صَفِيَّةَ أَوْ غَيْرِهَا - فَأَتَتْهُ بِهِنَّ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا " . فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَجَاءَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَنَسُ ، انْظُرْ مَنْ عَلَى الْبَابِ " . فَنَظَرْتُ فَإِذَا عَلِيٌّ ، فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى حَاجَةٍ ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " انْظُرْ مَنْ عَلَى الْبَابِ ؟ " . فَإِذَا عَلِيٌّ ، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا فَدَخَلَ يَمْشِي وَأَنَا خَلْفَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ حَبَسَكَ رَحِمَكَ اللَّهُ ؟ " . فَقَالَ : هَذَا آخِرَ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ يَرُدُّنِي أَنَسٌ يَزْعُمُ أَنَّكَ عَلَى حَاجَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِعْتُ دُعَاءَكَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَكُونَ مِنْ قَوْمِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الرَّجُلَ قَدْ يُحِبُّ قَوْمَهُ ، إِنَّ الرَّجُلَ قَدْ يُحِبُّ قَوْمَهُ " . قَالَهَا ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَلْمَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ پرندے تحفے کے طور پر پیش کیے گئے ، آپ نے وہ اپنی ازواج کے درمیان تقسیم کر دیے ، ان میں سے ہر ایک زوجہ محترمہ کے حصے میں تین پرندے آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اپنی ایک زوجہ محترمہ کے پاس موجود تھے ، شاید وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں یا کوئی اور تھیں ، وہ ان پرندوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کے آئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ ! تو میرے پاس اپنی مخلوق میں سے اپنے نزدیک پسندیدہ ترین بندے کو لے آ ، تاکہ وہ میرے ساتھ اس کو کھائے ( راوی کہتے ہیں : ) میں نے سوچا اے اللہ ! تو اسے انصار سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد بنا دے ، تو اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے انس دیکھو دروازے پر کون ہے ، میں نے دیکھا تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے کہا: اللہ کے رسول مصروف ہیں ، پھر میں آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دیکھو دروازے پر کون ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر آ گئے ، میں ان کے پیچھے موجود تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے تمہیں کس نے روک لیا تھا ، انہوں نے فرمایا : ایسا تیسری مرتبہ ہوا ہے ، انس مجھے واپس کر دیتا تھا ، اس کا یہ کہنا تھا کہ آپ مصروف ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اے انس ) تم نے ایسا کیوں کیا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کی دعا کو سنا تو میری یہ خواہش تھی کہ وہ فرد میری قوم سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آدمی اپنی قوم سے محبت رکھتا ہے ، آدمی اپنی قوم سے محبت رکھتا ہے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن سلمان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔