مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . باب: نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان :’’ میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں “
عَنْ أَبِي لَيْلَى قَالَ : قُلْتُ لِعَلِيٍّ - وَكَانَ يَسْمُرُ مَعَهُ - : إِنَّ النَّاسَ قَدْ أَنْكَرُوا مِنْكَ أَنْ تَخْرُجَ فِي الْحَرِّ فِي الثَّوْبِ الْمَحْشُوِّ ، وَفِي الشِّتَاءِ فِي الْمُلَاءَتَيْنِ الْخَفِيفَتَيْنِ ؟ ! فَقَالَ عَلِيٌّ : أَوَلَمْ تَكُنْ مَعَنَا ؟ قُلْتُ : بَلَى قَالَ : فَإِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا أَبَا بَكْرٍ فَعَقَدَ لَهُ لِوَاءً ثُمَّ بَعَثَهُ ، فَسَارَ بِالنَّاسِ فَانْهَزَمَ ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ وَرَجَعَ ، فَدَعَا عُمَرَ فَعَقَدَ لَهُ لِوَاءً فَسَارَ ، ثُمَّ رَجَعَ مُنْهَزِمًا بِالنَّاسِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولَهُ ، يَفْتَحُ اللَّهُ لَهُ لَيْسَ بِفَرَّارٍ " . فَأَرْسَلَ فَأَتَيْتُهُ وَأَنَا لَا أُبْصِرُ شَيْئًا ، فَتَفَلَ فِي عَيْنِي فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اكْفِهِ أَلَمَ الْحَرِّ وَالْبَرْدِ " . فَمَا آذَانِي حَرٌّ وَلَا بَرْدٌ بَعْدُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابولیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: راوی کہتے ہیں : وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رات کے وقت بات چیت کر رہے تھے ( انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ) لوگ اس حوالے سے آپ پر اعتراض کرتے ہیں کہ آپ گرمی کے موسم میں سردیوں والے کپڑے پہن کر باہر آ جاتے ہیں ، اور سردیوں کے موسم میں ہلکے کپڑے پہن کے آ جاتے ہیں ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم ہمارے ساتھ نہیں تھے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا تھا ، ان کے لئے جھنڈا باندھا تھا اور پھر انہیں بھیجا تھا ، وہ لوگوں کو لے کر گئے تھے ، لیکن پسپا ہو کے واپس آ گئے تھے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا تھا ، ان کے لئے جھنڈا باندھا تھا ، وہ بھی گئے تھے اور پھر لوگوں کے ساتھ پسپا ہو کر واپس آ گئے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ۔ “ ” میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ اسے فتح نصیب کرے گا ، اور وہ فرار نہیں ہو گا ( یعنی لوٹ کے واپس نہیں آئے گا ِ) ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیجا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں کوئی چیز نہیں دیکھ سکتا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا ، پھر آپ نے دعا کی : ” اے اللہ ! گرمی اور سردی کی تکلیف کے حوالے سے اس کے لئے کفایت کر دے ۔ “ ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو اس کے بعد کبھی بھی گرمی یا سردی نے مجھے اذیت نہیں دی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔