حدیث نمبر: 14717
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : أَبَا بَكْرٍ - فَرَجَعَ مُنْهَزِمًا وَمَنْ مَعَهُ . فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ بَعْثَ عُمَرَ فَرَجَعَ مُنْهَزِمًا يُجَبِّنُ أَصْحَابَهُ ، وَيُجَبِّنُهُ أَصْحَابُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًّا رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، لَا يَرْجِعُ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ " . ¤ فَثَارَ النَّاسُ فَقَالَ : " أَيْنَ عَلِيٌّ ؟ " . فَإِذَا هُوَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ ، فَتَفَلَ فِي عَيْنَيْهِ ، ثُمَّ دَفَعَ إِلَيْهِ الرَّايَةَ فَهَزَّهَا فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ لَيْسَ بِشَيْءٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی طرف ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا تو وہ اور ان کے ساتھی پسپا ہو کر واپس آ گئے اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا تو وہ پسا ہو کر واپس آ گئے ۔ ان کے اصحاب نے بزدلی دکھائی تھی ، ان کے اصحاب نے انہیں بھی بزدلی دکھانے پر مجبور کر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں ۔ وہ اس وقت تک واپس نہیں آئے گا ، جب تک اللہ تعالیٰ اسے فتح نصیب نہیں کر دے گا ۔ “ تو سب لوگ اکٹھے ہو کر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : علی کہاں ہے ؟ اس وقت انہیں آنکھوں میں تکلیف کی شکایت تھی ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا ، پھر انہیں جھنڈا دیا ، انہوں نے اس جھنڈے کو لہرایا ، تو اللہ تعالیٰ انہیں فتح نصیب کر دی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے ، اور وہ متروک ہے وہ کوئی چیز نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14717
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2545)»