مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي شَجَاعَتِهِ وَحَمْلِهِ اللِّوَاءَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری کا بیان اور ان کا جھنڈے کو اٹھانا
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّايَةَ فَهَزَّهَا ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ يَأْخُذُهَا بِحَقِّهَا ؟ " . فَجَاءَ الزُّبَيْرُ ، فَقَالَ : أَنَا ، فَقَالَ : " أَمِطْ " . ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : أَنَا ، فَقَالَ : " أَمِطْ " . ثُمَّ قَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : أَنَا ، فَقَالَ : " أَمِطْ " . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي أَكْرَمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ لَأُعْطِيَنَّهَا رَجُلًا لَا يَفِرُّ ، هَاكَ يَا عَلِيُّ " . فَقَبَضَهَا ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَدَكَ وَخَيْبَرَ ، وَجَاءَ بِعَجْوَتِهَا وَقَدِيدِهَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ يُخْطِئُ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا پکڑ کر اسے لہرایا اور پھر فرمایا : کون اس کے حق کے ہمراہ اسے لے گا ؟ تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے کہا: میں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پیچھے ہٹ جاؤ ، پھر ایک اور صاحب آئے ، انہوں نے کہا: میں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پیچھے ہٹ جاؤ ۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے کہا: میں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پیچھے ہٹ جاؤ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے محمد کو عزت عطا کی ہے ، میں یہ جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جو فرار نہیں ہو گا ، علی آگے آئے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہ جھنڈا لیا ، پھر وہ گئے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فدک اور خیبر ان کے لئے فتح کر دیا ، تو وہ وہاں کی عجوہ اور قدید کھجوریں لے کے آئے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن عصمہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے لیکن غلطی کر جاتا ہے ۔