حدیث نمبر: 14690
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِذٌ بِيَدِي وَنَحْنُ نَمْشِي فِي بَعْضِ سِكَكِ الْمَدِينَةِ إِذْ أَتَيْنَا عَلَى حَدِيقَةٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَحْسَنَهَا مِنْ حَدِيقَةٍ ! فَقَالَ : " إِنَّ لَكَ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنَ مِنْهَا " . ثُمَّ مَرَرْنَا بِأُخْرَى ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَحْسَنَهَا مِنْ حَدِيقَةٍ ! قَالَ : " لَكَ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْهَا " . حَتَّى مَرَرْنَا بِسَبْعِ حَدَائِقَ ، كُلُّ ذَلِكَ أَقُولُ : مَا أَحْسَنَهَا ، وَيَقُولُ : " لَكَ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْهَا " . فَلَمَّا خَلَا لِيَ الطَّرِيقُ اعْتَنَقَنِي ثُمَّ أَجْهَشَ بَاكِيًا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يُبْكِيكَ ؟ قَالَ : " ضَغَائِنُ فِي صُدُورِ أَقْوَامٍ لَا يُبْدُونَهَا لَكَ إِلَّا مِنْ بَعْدِي " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِي سَلَامَةٍ مِنْ دِينِي ؟ قَالَ : " فِي سَلَامَةٍ مِنْ دِينِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عُمَيْرَةَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور ہم مدینہ منورہ کی کسی گلی سے گزر رہے تھے ، اسی دوران ہم ایک باغ کے پاس آ گئے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ باغ کتنا اچھا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے لئے جنت میں اس سے بھی زیادہ عمدہ باغ ہے ، پھر ہم ایک اور باغ کے پاس سے گزرے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ باغ کتنا اچھا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے لئے جنت میں اس سے بھی زیادہ عمدہ باغ ہے ، یہاں تک کہ ہم سات باغوں کے پاس سے گزرے ، ہر ایک کے بارے میں ، میں نے یہی کہا: یہ کتنا اچھا ہے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے کہ تمہارے لئے جنت میں اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہے ، جب راستہ میرے لئے خالی ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گلے لگا لیا اور پھر آپ رونے لگے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس دشمنی کی وجہ سے جو کچھ لوگوں کے سینوں میں ہو گی ۔ وہ میرے بعد تمہارے لئے اس کو ظاہر کریں گے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس میں میرا دین سلامت رہے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا دین سلامتی میں رہے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عمیرہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14690
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2523) اخرجه ابو يعلى فى المسند (565)»