حدیث نمبر: 14691
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيٌّ فِي حِشَانِ الْمَدِينَةِ ، فَمَرَّا بِحَدِيقَةٍ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : مَا أَحْسَنَ هَذِهِ الْحَدِيقَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! فَقَالَ : " حَدِيقَتُكَ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْهَا " . ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى رَأْسِهِ [ وَلِحْيَتِهِ ] ، ثُمَّ بَكَى حَتَّى عَلَا بُكَاؤُهُ ، قُلْتُ : مَا يُبْكِيكَ ؟ قَالَ : " ضَغَائِنُ فِي صُدُورِ قَوْمٍ لَا يُبْدُونَهَا لَكَ حَتَّى يَفْقِدُونِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِمْ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَمِنْدَلٌ أَيْضًا فِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے باغات والے علاقے سے گزر رہے تھے ، ہمارا گزر ایک باغ کے پاس سے ہوا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ باغ کتنا اچھا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت میں جو تمہارا باغ ہے وہ اس سے زیادہ اچھا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنے سر اور داڑھی کی طرف اشارہ کیا اور پھر آپ رونے لگے ، یہاں تک کہ آپ کے رونے کی آواز بلند ہوئی ، عرض کی گئی : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس دشمنی کی وجہ سے جو کچھ لوگوں کے سینوں میں ہو گی اور وہ لوگ اس دشمنی کو تمہارے لئے اس وقت ظاہر کریں گے جب وہ مجھے غیر موجود پائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی مندل بھی ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14691
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11084)»