حدیث نمبر: 14689
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يُحِبُّ ثَلَاثَةً مِنْ أَصْحَابِكَ يَا مُحَمَّدُ . ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ . قَالَ أَنَسٌ : فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهِبْتُهُ ، فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنِّي كُنْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ ، فَلَعَلَّكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ . ثُمَّ لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ لَقِيتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، فَقُلْتُ لَهُ كَمَا قُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا أَسْأَلُهُ ، إِنْ كُنْتُ مِنْهُمْ حَمِدْتُ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْهُمْ حَمِدْتُ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَنَسًا حَدَّثَنِي : أَنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاكَ ، فَقَالَ : إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ ، فَإِنْ كُنْتُ مِنْهُمْ حَمِدْتُ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْهُمْ حَمِدْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتَ مِنْهُمْ أَنْتَ مِنْهُمْ ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، ، وَسَيَشْهَدُ مَشَاهِدَ بَيِّنٌ فَضْلُهَا ، عَظِيمٌ أَجْرُهَا ، وَسَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ فَاتَّخِذْهُ صَاحِبًا " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ طَرَفًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ النَّضْرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْكِنْدِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بے شک اللہ تعالیٰ آپ کے اصحاب میں سے تین افراد سے محبت رکھتا ہے ، اسے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بے شک جنت آپ کے اصحاب میں سے تین افراد کی مشتاق ہے ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کروں ، لیکن میں ہیبت کی وجہ سے نہیں پوچھ سکا ، میری ملاقات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے بتایا : اے سیدنا ابوبکر ! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے یہ بتایا : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! بے شک جنت تین افراد کی مشتاق ہے ، تو ہو سکتا ہے آپ ان افراد میں سے ایک ہوں ، پھر میری ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو میں نے انہیں بھی اس کی مانند بات کی ، پھر میری ملاقات سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں بھی وہی بات کی ، جو میں نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے کی تھی ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کروں گا ، اگر میں ان افراد میں سے ایک ہوا ، تو میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا ، اور اگر میں ان افراد میں سے ایک نہ بھی ہوا ، تو بھی میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انس نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور انہوں نے یہ بتایا : جنت آپ کے اصحاب میں سے تین افراد کی مشتاق ہے ، اگر میں ان لوگوں میں سے ایک ہوا ، تو میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا ، اور اگر میں ان میں سے ایک نہ ہوا ، تو بھی میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ان میں سے ایک ہو ، تم ان میں سے ایک ہو ، اور ایک فرد عمار بن یاسر ہے ، جو عنقریب جنگوں میں حصہ لے گا ، اور اس کی فضیلت واضح ہو جائے گی ، اور اس کا اجر عظیم ہو گا ، اور ایک فرد سلمان ہے ، جو ہم میں سے یعنی اہل بیت میں سے ہے ، تم اسے ساتھی بنا کے رکھنا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر بن حمید کندی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14689
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2524)»