کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جنت کی خوشخبری ملنا
حدیث نمبر: 14685
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ مِنْ تَحْتِ هَذَا الصُّورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . قَالَ : فَطَلَعَ أَبُو بَكْرٍ ، فَهَنَّأْنَاهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ثُمَّ لَبِثَ هُنَيْهَةً ، ثُمَّ قَالَ : " يَطْلُعُ مِنْ تَحْتِ هَذَا الصُّورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَطَلَعَ عُمَرُ ، فَهَنَّأْنَاهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ثُمَّ قَالَ : " يَطْلُعُ مِنْ تَحْتِ هَذَا الصُّورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ عَلِيًّا " . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ : فَطَلَعَ عَلِيٌّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کھجوروں کے ان درختوں کے نیچے سے تمہارے سامنے اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آئے گا ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سامنے آئے ، ہم نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے حوالے سے مبارک باد دی ، پھر کچھ دیر گزرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کھجور کے ان درختوں کے نیچے سے اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص سامنے آئے گا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سامنے آئے ، ہم نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے حوالے سے مبارک باد دی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بھجور کے ان درختوں کے نیچے سے اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص سامنے آئے گا ، اے اللہ ! اگر تو چاہے تو اسے علی بنا دے ! یہ بات آپ نے تین مرتبہ کہی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سامنے آ گئے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14685
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 14686
وَفِي رِوَايَةٍ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ عَلِيًّا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اے اللہ ! تو اسے علی بنا دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14686
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 14687
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَدَخَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَسَلَّمَ وَصَعِدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے فرمایا : اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تمہارے سامنے آئے گا ، تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اندر تشریف لائے ، انہوں نے سلام کیا اور اوپر چڑھ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور وہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14687
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1812) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10342)»
حدیث نمبر: 14688
وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ : مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ مِنْ أَصْحَابِكَ ثَلَاثَةً ، فَأَحِبَّهُمْ : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَبُو ذَرٍّ ، وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ . قَالَ : فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ . وَعِنْدَهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، فَرَجَا أَنْ يَكُونَ لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ قَالَ : فَأَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُمْ فَهَابَهُ ، فَخَرَجَ فَلَقِيَ أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آنِفًا ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ : إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ . فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ ، فَهِبَتُهُ أَنْ أَسْأَلَهُ ، فَهَلْ لَكَ أَنْ تَدْخُلَ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فَتَسْأَلَهُ ] ؟ فَقَالَ : إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَسْأَلَهُ فَلَا أَكُونَ مِنْهُمْ ، وَيَسُبُّنِي قَوْمِي . ثُمَّ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ قَوْلٍ أَبِي بَكْرٍ . قَالَ : فَلَقِيَ عَلِيًّا فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : نَعَمْ . إِنْ كُنْتُ مِنْهُمْ أَحْمَدُ اللَّهَ ، وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْهُمْ فَحَمِدْتُ اللَّهَ . فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ أَنَسًا حَدَّثَنِي أَنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ آنِفًا ، وَأَنَّ جِبْرِيلَ أَتَاكَ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ ، فَمَنْ هُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْتَ مِنْهُمْ يَا عَلِيُّ ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، وَسَيَشْهَدُ مَعَكَ مَشَاهِدَ بَيِّنٌ فَضْلُهَا عَظِيمٌ خَيْرُهَا ، وَسَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ ، وَهُوَ نَاصِحٌ فَاتَّخِذْهُ لِنَفْسِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ النَّضْرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْكِنْدِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
امام ابوجعفر محمد بن علی ( یعنی امام باقر ) اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بے شک اللہ تعالیٰ آپ کے اصحاب میں سے تین افراد سے محبت کرتا ہے ، آپ بھی ان سے محبت رکھیں ، علی بن ابوطالب ، ابوذر اور مقداد بن اسود ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! بے شک جنت آپ کے اصحاب میں سے تین افراد کی مشتاق ہے ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ تھے ۔ انہیں یہ توقع ہوئی کہ شاید یہ بات بعض انصار کے بارے میں ہو گی ، انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کریں لیکن پھر وہ ہیبت کی وجہ سے نہ پوچھ پائے ، وہ وہاں سے نکلے ، ان کی ملاقات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، انہوں نے کہا: اے سیدنا ابوبکر ! ابھی میں نبی اکرم رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ دیر پہلے موجود تھا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے : جنت آپ کے اصحاب میں سے تین افراد کی مشتاق ہے ، تو مجھے یہ توقع ہوئی کہ شاید یہ انصار میں سے کسی کے لئے ہو گا ، لیکن میں ہیبت کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت نہیں کر سکا ، کیا آپ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کریں ، تو انہوں نے کہا: مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، تو میں ان افراد میں سے ایک نہ ہوا ، تو میری قوم کے لوگ مجھے برا کہیں گے ، پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اللہ سے ہوئی ، تو انہوں نے بھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے جواب کی مانند جواب دیا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر ان کی ملاقات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ٹھیک ہے ، اگر میں ان میں سے ایک ہوا ، تو میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا اور اگر میں ان میں سے ایک نہ ہوا ، تو بھی میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : انس نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ ابھی کچھ دیر پہلے وہ آپ کے پاس موجود تھا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! جنت آپ کے اصحاب میں سے تین افراد کی مشتاق ہے ، تو اے اللہ کے نبی ! وہ لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! ان میں سے ایک تم ہو ، عمار بن یاسر ہے ، جو عنقریب تمہارے ساتھ کچھ جنگوں میں حصہ لے گا ، جس سے اس کی فضیلت واضح ہو جائے گی ، جس کی بھلائی بہت زیادہ ہے ، اور ایک فرد سلمان ہے ، جو ہم اہل بیت میں سے ایک ہے ، اور وہ خیرخواہ ہے ، تم اسے اپنے لئے حاصل کر لو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر بن حمید کندی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14688
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6772)»
حدیث نمبر: 14689
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يُحِبُّ ثَلَاثَةً مِنْ أَصْحَابِكَ يَا مُحَمَّدُ . ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ . قَالَ أَنَسٌ : فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهِبْتُهُ ، فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنِّي كُنْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ ، فَلَعَلَّكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ . ثُمَّ لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ لَقِيتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، فَقُلْتُ لَهُ كَمَا قُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا أَسْأَلُهُ ، إِنْ كُنْتُ مِنْهُمْ حَمِدْتُ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْهُمْ حَمِدْتُ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَنَسًا حَدَّثَنِي : أَنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاكَ ، فَقَالَ : إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ ، فَإِنْ كُنْتُ مِنْهُمْ حَمِدْتُ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْهُمْ حَمِدْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتَ مِنْهُمْ أَنْتَ مِنْهُمْ ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، ، وَسَيَشْهَدُ مَشَاهِدَ بَيِّنٌ فَضْلُهَا ، عَظِيمٌ أَجْرُهَا ، وَسَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ فَاتَّخِذْهُ صَاحِبًا " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ طَرَفًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ النَّضْرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْكِنْدِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بے شک اللہ تعالیٰ آپ کے اصحاب میں سے تین افراد سے محبت رکھتا ہے ، اسے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بے شک جنت آپ کے اصحاب میں سے تین افراد کی مشتاق ہے ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کروں ، لیکن میں ہیبت کی وجہ سے نہیں پوچھ سکا ، میری ملاقات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے بتایا : اے سیدنا ابوبکر ! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے یہ بتایا : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! بے شک جنت تین افراد کی مشتاق ہے ، تو ہو سکتا ہے آپ ان افراد میں سے ایک ہوں ، پھر میری ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو میں نے انہیں بھی اس کی مانند بات کی ، پھر میری ملاقات سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں بھی وہی بات کی ، جو میں نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے کی تھی ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کروں گا ، اگر میں ان افراد میں سے ایک ہوا ، تو میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا ، اور اگر میں ان افراد میں سے ایک نہ بھی ہوا ، تو بھی میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انس نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور انہوں نے یہ بتایا : جنت آپ کے اصحاب میں سے تین افراد کی مشتاق ہے ، اگر میں ان لوگوں میں سے ایک ہوا ، تو میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا ، اور اگر میں ان میں سے ایک نہ ہوا ، تو بھی میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ان میں سے ایک ہو ، تم ان میں سے ایک ہو ، اور ایک فرد عمار بن یاسر ہے ، جو عنقریب جنگوں میں حصہ لے گا ، اور اس کی فضیلت واضح ہو جائے گی ، اور اس کا اجر عظیم ہو گا ، اور ایک فرد سلمان ہے ، جو ہم میں سے یعنی اہل بیت میں سے ہے ، تم اسے ساتھی بنا کے رکھنا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر بن حمید کندی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14689
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2524)»
حدیث نمبر: 14690
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِذٌ بِيَدِي وَنَحْنُ نَمْشِي فِي بَعْضِ سِكَكِ الْمَدِينَةِ إِذْ أَتَيْنَا عَلَى حَدِيقَةٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَحْسَنَهَا مِنْ حَدِيقَةٍ ! فَقَالَ : " إِنَّ لَكَ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنَ مِنْهَا " . ثُمَّ مَرَرْنَا بِأُخْرَى ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَحْسَنَهَا مِنْ حَدِيقَةٍ ! قَالَ : " لَكَ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْهَا " . حَتَّى مَرَرْنَا بِسَبْعِ حَدَائِقَ ، كُلُّ ذَلِكَ أَقُولُ : مَا أَحْسَنَهَا ، وَيَقُولُ : " لَكَ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْهَا " . فَلَمَّا خَلَا لِيَ الطَّرِيقُ اعْتَنَقَنِي ثُمَّ أَجْهَشَ بَاكِيًا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يُبْكِيكَ ؟ قَالَ : " ضَغَائِنُ فِي صُدُورِ أَقْوَامٍ لَا يُبْدُونَهَا لَكَ إِلَّا مِنْ بَعْدِي " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِي سَلَامَةٍ مِنْ دِينِي ؟ قَالَ : " فِي سَلَامَةٍ مِنْ دِينِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عُمَيْرَةَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور ہم مدینہ منورہ کی کسی گلی سے گزر رہے تھے ، اسی دوران ہم ایک باغ کے پاس آ گئے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ باغ کتنا اچھا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے لئے جنت میں اس سے بھی زیادہ عمدہ باغ ہے ، پھر ہم ایک اور باغ کے پاس سے گزرے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ باغ کتنا اچھا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے لئے جنت میں اس سے بھی زیادہ عمدہ باغ ہے ، یہاں تک کہ ہم سات باغوں کے پاس سے گزرے ، ہر ایک کے بارے میں ، میں نے یہی کہا: یہ کتنا اچھا ہے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے کہ تمہارے لئے جنت میں اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہے ، جب راستہ میرے لئے خالی ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گلے لگا لیا اور پھر آپ رونے لگے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس دشمنی کی وجہ سے جو کچھ لوگوں کے سینوں میں ہو گی ۔ وہ میرے بعد تمہارے لئے اس کو ظاہر کریں گے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس میں میرا دین سلامت رہے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا دین سلامتی میں رہے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عمیرہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14690
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2523) اخرجه ابو يعلى فى المسند (565)»
حدیث نمبر: 14691
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيٌّ فِي حِشَانِ الْمَدِينَةِ ، فَمَرَّا بِحَدِيقَةٍ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : مَا أَحْسَنَ هَذِهِ الْحَدِيقَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! فَقَالَ : " حَدِيقَتُكَ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْهَا " . ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى رَأْسِهِ [ وَلِحْيَتِهِ ] ، ثُمَّ بَكَى حَتَّى عَلَا بُكَاؤُهُ ، قُلْتُ : مَا يُبْكِيكَ ؟ قَالَ : " ضَغَائِنُ فِي صُدُورِ قَوْمٍ لَا يُبْدُونَهَا لَكَ حَتَّى يَفْقِدُونِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِمْ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَمِنْدَلٌ أَيْضًا فِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے باغات والے علاقے سے گزر رہے تھے ، ہمارا گزر ایک باغ کے پاس سے ہوا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ باغ کتنا اچھا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت میں جو تمہارا باغ ہے وہ اس سے زیادہ اچھا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنے سر اور داڑھی کی طرف اشارہ کیا اور پھر آپ رونے لگے ، یہاں تک کہ آپ کے رونے کی آواز بلند ہوئی ، عرض کی گئی : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس دشمنی کی وجہ سے جو کچھ لوگوں کے سینوں میں ہو گی اور وہ لوگ اس دشمنی کو تمہارے لئے اس وقت ظاہر کریں گے جب وہ مجھے غیر موجود پائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی مندل بھی ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14691
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11084)»
حدیث نمبر: 14692
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ : هَاجَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ ذَاتَ يَوْمٍ قَالَ لِي : " يَا عَمْرُو ، هَلْ أُرِيكَ دَابَّةَ الْجَنَّةِ تَأْكُلُ الطَّعَامَ ، وَتَشْرَبُ الشَّرَابَ ، وَتَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : بَلَى بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي . قَالَ : " هَذَا دَابَّةُ الْجَنَّةِ " . وَأَشَارَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ ضُعَفَاءُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، آپ نے مجھ سے فرمایا : اے عمرو کیا میں تمہیں جنت کا فرد دکھاؤں ، جو کھانا کھاتا ہے اور مشروب پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ جنت کا فرد ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ضعیف راویوں کی ایک جماعت ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14692
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14693
وَعَنْ سَلْمَى - امْرَأَةِ أَبِي رَافِعٍ - أَنَّهَا قَالَتْ : إِنِّي لَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَسْوَاقِ ، فَقَالَ : " لَيَطْلُعَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . إِذْ سَمِعْتُ الْخَشَفَةَ فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ الرَّافِعِيُّ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سلمیٰ بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ” اسواق “ کے مقام پر موجود تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے سامنے اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک فرد آئے گا ۔ “ راوی خاتون کہتی ہیں اس دوران میں نے کسی کے آنے کی آہٹ سنی تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سامنے آ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل رافعی ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس پر جرح نہیں کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14693
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (301/24)»