مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ بِشَارَتِهِ بِالْجَنَّةِ . باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جنت کی خوشخبری ملنا
وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ : مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ مِنْ أَصْحَابِكَ ثَلَاثَةً ، فَأَحِبَّهُمْ : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَبُو ذَرٍّ ، وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ . قَالَ : فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ . وَعِنْدَهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، فَرَجَا أَنْ يَكُونَ لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ قَالَ : فَأَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُمْ فَهَابَهُ ، فَخَرَجَ فَلَقِيَ أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آنِفًا ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ : إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ . فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ ، فَهِبَتُهُ أَنْ أَسْأَلَهُ ، فَهَلْ لَكَ أَنْ تَدْخُلَ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فَتَسْأَلَهُ ] ؟ فَقَالَ : إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَسْأَلَهُ فَلَا أَكُونَ مِنْهُمْ ، وَيَسُبُّنِي قَوْمِي . ثُمَّ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ قَوْلٍ أَبِي بَكْرٍ . قَالَ : فَلَقِيَ عَلِيًّا فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : نَعَمْ . إِنْ كُنْتُ مِنْهُمْ أَحْمَدُ اللَّهَ ، وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْهُمْ فَحَمِدْتُ اللَّهَ . فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ أَنَسًا حَدَّثَنِي أَنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ آنِفًا ، وَأَنَّ جِبْرِيلَ أَتَاكَ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ ، فَمَنْ هُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْتَ مِنْهُمْ يَا عَلِيُّ ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، وَسَيَشْهَدُ مَعَكَ مَشَاهِدَ بَيِّنٌ فَضْلُهَا عَظِيمٌ خَيْرُهَا ، وَسَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ ، وَهُوَ نَاصِحٌ فَاتَّخِذْهُ لِنَفْسِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ النَّضْرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْكِنْدِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤امام ابوجعفر محمد بن علی ( یعنی امام باقر ) اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بے شک اللہ تعالیٰ آپ کے اصحاب میں سے تین افراد سے محبت کرتا ہے ، آپ بھی ان سے محبت رکھیں ، علی بن ابوطالب ، ابوذر اور مقداد بن اسود ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! بے شک جنت آپ کے اصحاب میں سے تین افراد کی مشتاق ہے ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ تھے ۔ انہیں یہ توقع ہوئی کہ شاید یہ بات بعض انصار کے بارے میں ہو گی ، انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کریں لیکن پھر وہ ہیبت کی وجہ سے نہ پوچھ پائے ، وہ وہاں سے نکلے ، ان کی ملاقات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، انہوں نے کہا: اے سیدنا ابوبکر ! ابھی میں نبی اکرم رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ دیر پہلے موجود تھا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے : جنت آپ کے اصحاب میں سے تین افراد کی مشتاق ہے ، تو مجھے یہ توقع ہوئی کہ شاید یہ انصار میں سے کسی کے لئے ہو گا ، لیکن میں ہیبت کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت نہیں کر سکا ، کیا آپ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کریں ، تو انہوں نے کہا: مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، تو میں ان افراد میں سے ایک نہ ہوا ، تو میری قوم کے لوگ مجھے برا کہیں گے ، پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اللہ سے ہوئی ، تو انہوں نے بھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے جواب کی مانند جواب دیا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر ان کی ملاقات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ٹھیک ہے ، اگر میں ان میں سے ایک ہوا ، تو میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا اور اگر میں ان میں سے ایک نہ ہوا ، تو بھی میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : انس نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ ابھی کچھ دیر پہلے وہ آپ کے پاس موجود تھا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! جنت آپ کے اصحاب میں سے تین افراد کی مشتاق ہے ، تو اے اللہ کے نبی ! وہ لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! ان میں سے ایک تم ہو ، عمار بن یاسر ہے ، جو عنقریب تمہارے ساتھ کچھ جنگوں میں حصہ لے گا ، جس سے اس کی فضیلت واضح ہو جائے گی ، جس کی بھلائی بہت زیادہ ہے ، اور ایک فرد سلمان ہے ، جو ہم اہل بیت میں سے ایک ہے ، اور وہ خیرخواہ ہے ، تم اسے اپنے لئے حاصل کر لو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر بن حمید کندی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔