حدیث نمبر: 14678
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ مُرْسَلًا قَالَ : كَانَ قَوْمٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ عَلِيٌّ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلِيٌّ خَرَجُوا ، فَمَا خَرَجُوا تَلَاوَمُوا ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : وَاللَّهِ مَا أَخْرَجَنَا فَارْجِعُوا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَاللَّهِ مَا أَدْخَلْتُهُ وَأَخْرَجْتُكُمْ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَدْخَلَهُ وَأَخْرَجَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن علی نے ابراہیم بن سعد کے حوالے سے ان کے والد سے روایت نقل کی ہے ، اور محمد بن علی کے حوالے سے یہ مرسل روایت بھی منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر آئے ، تو وہ لوگ باہر چلے گئے ، جب وہ لوگ باہر چلے گئے ، تو انہوں نے ایک دوسرے کو ملامت کی اور ایک دوسرے سے کہا: اللہ کی قسم ! ہمیں نکالا نہیں گیا ، تو تم لوگ واپس چلو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی قسم ! نہ تو میں نے اسے اندر داخل کروایا اور نہ ہی تم لوگوں کو نکالا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اندر داخل کروایا اور تم لوگوں کو نکال دیا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14678
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2556)»