حدیث نمبر: 14677
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا أَخْرَجَ أَهْلَ الْمَسْجِدِ وَتَرَكَ عَلِيًّا قَالَ النَّاسَ فِي ذَلِكَ ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا أَنَا أَخْرَجْتُكُمْ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي ، وَلَا أَنَا تَرَكْتُهُ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَخْرَجَكُمْ وَتَرَكَهُ ، إِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ مَأْمُورٌ مَا أُمِرْتُ بِهِ فَعَلْتُ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ اخْتُلِفَ فِيهِمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب اہل مسجد کو نکال دیا گیا ، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا گیا ، تو لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں نے تم لوگوں کو اپنی طرف سے نہیں نکالا ہے ، اور نہ ہی علی کو اپنی طرف سے چھوڑا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو نکالا ہے ، اور اسے رہنے دیا ہے ، میں حکم کا پابند بندہ ہوں ، مجھے جو حکم دیا جاتا ہے ، میں ویسا ہی کرتا ہوں ، میں صرف اس بات کی پیروی کرتا ہوں ، جو میری طرف وحی کی جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14677
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12722)»