کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مسجد میں موجود حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخصوص دروازے کو کھلا رکھا جانا
حدیث نمبر: 14671
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : كَانَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْوَابٌ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ . قَالَ : فَقَالَ يَوْمًا : " سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ " . قَالَ : فَتَكَلَّمَ أُنَاسٌ فِي ذَلِكَ . ¤ قَالَ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنِّي أَمَرْتُ بِسَدِّ هَذِهِ الْأَبْوَابِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ ، فَقَالَ فِيهِ قَائِلُكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا سَدَدْتُ شَيْئًا وَلَا فَتَحْتُهُ وَلَكِنِّي أُمِرْتُ بِشَيْءٍ فَاتَّبَعْتُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کے مخصوص دروازے تھے جو مسجد میں کھلتے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ان دروازوں کو بند کر دو البتہ علی کے دروازے کو رہنے دو ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” امابعد ! میں نے تمام دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا اور علی کے دروازے کو کھلا رکھنے کو کہا: ، اس کے بارے میں تم میں سے کسی نے کچھ کہا: ، اللہ کی قسم ! میں نے کوئی بھی چیز بند نہیں کی اور کوئی بھی چیز کھولی نہیں ( یعنی اپنی طرف سے ایسا نہیں کیا ) بلکہ مجھے جو حکم دیا گیا ہے ، میں نے اس کی پیروی کی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14671
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (369/4)»
حدیث نمبر: 14672
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الرَّقِيمِ الْكِنَانِيِّ قَالَ : خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ زَمَنَ الْجَمَلِ ، فَلَقِينَا سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ بِهَا ، فَقَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَدِّ الْأَبْوَابِ الشَّارِعَةِ فِي الْمَسْجِدِ ، وَتَرَكَ بَابَ عَلِيٍّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَزَادَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَدَدْتَ أَبْوَابَنَا كُلَّهَا إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ قَالَ : " مَا أَنَا سَدَدْتُ أَبْوَابَكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ سَدَّهَا " . وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن رقیم کنانی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ جنگ جمل کے زمانے میں مدینہ منورہ گئے ، ہماری ملاقات وہاں سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو انہوں نے فرمایا : مسجد میں کھلنے والے تمام دروازوں کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا کہ ان کو بند کر دیا جائے ، صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کو رہنے دیا گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمارے تمام دروازے بند کر دیے ، صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دروازے رہنے دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے تمہارے دروازوں کو بند نہیں کروایا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بند کروایا ہے ۔ “ امام أحمد کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14672
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (703) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1511)»
حدیث نمبر: 14673
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِي ، فَقَالَ : " إِنَّ مُوسَى سَأَلَ رَبَّهُ أَنْ يَظْهَرَ مَسْجِدُهُ بِهَارُونَ ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ يَظْهَرَ مَسْجِدِي بِكَ وَبِذُرِّيَّتِكَ " . ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ : " أَنْ سُدَّ بَابِكَ " . فَاسْتَرْجَعَ ، ثُمَّ قَالَ : سَمْعٌ وَطَاعَةٌ ، فَسَدَّ بَابَهُ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى الْعَبَّاسِ بِمِثْلِ ذَلِكَ . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَنَا سَدَدْتُ أَبْوَابَكُمْ وَفَتَحْتُ بَابَ عَلِيٍّ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ فَتَحَ بَابَ عَلِيٍّ ، وَسَدَّ أَبْوَابَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا : ” سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی کہ وہ سیدنا ہارون علیہ السلام کے ذریعے ان کی مسجد کو غالب کرے اور میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی ہے کہ وہ تمہارے ذریعے اور تمہاری ذریت کے ذریعے میری مسجد کو غالب کرے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ تم اپنا دروازہ بند کر دو ، انہوں نے رجوع کی درخواست کی اور پھر یہ کہا: اس بات کی اطاعت و فرمانبرداری ہو گی ، انہوں نے اپنا دروازہ بند کر دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا پھر آپ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی طرف اس کی مانند پیغام بھیجا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے تم لوگوں کے دروازے بند نہیں کیے اور علی کا دروازہ کھلا نہیں رہنے دیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے علی کے دروازے کو کھلا رہنے دیا ہے ، اور تمہارے دروازے بند کروائے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14673
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2552)»
حدیث نمبر: 14674
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْطَلِقْ ، فَمُرْهُمْ فَلْيَسُدُّوا أَبْوَابَهُمْ " . فَانْطَلَقْتُ ، فَقُلْتُ لَهُمْ فَفَعَلُوا إِلَّا حَمْزَةَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ فَعَلُوا إِلَّا حَمْزَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُلْ لِحَمْزَةَ فَلْيُحَوِّلْ بَابَهُ " . فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكَ أَنْ تُحَوِّلَ بَابَكَ . فَحَوَّلَهُ ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَقَالَ : " ارْجِعْ إِلَى بَيْتِكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ وَقَدْ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم جاؤ اور انہیں یہ ہدایت کرو کہ وہ اپنے دروازے بند کر دیں ۔ “ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں گیا ۔ میں نے ان لوگوں کو کہا: ، ان لوگوں نے ایسا کر لیا ، صرف حمزہ نے ایسا نہیں کیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حمزہ کے علاوہ باقی سب لوگوں نے ایسا کر لیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم حمزہ سے یہ کہو کہ اپنا دروازہ منتقل کر لے ، میں نے آ کے کہا: اللہ کے رسول نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اپنا دروازہ منتقل کر لیں ، تو انہوں نے اسے منتقل کر لیا ، پھر میں جب واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے ، آپ نے فرمایا : تم اپنے گھر واپس چلے جاؤ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں جن کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14674
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2553)»
حدیث نمبر: 14675
وَعَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْعَرَارِ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ ، فَقَالَ : أَمَّا عَلِيٌّ ; فَلَا تَسْأَلُوا عَنْهُ ، انْظُرُوا إِلَى مَنْزِلِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنَّهُ سَدَّ أَبْوَابَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَقَرَّ بَابَهُ ، وَأَمَّا عُثْمَانُ ; فَإِنَّهُ أَذْنَبَ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ ذَنْبًا عَظِيمًا فَعَفَا اللَّهُ عَنْهُ ، وَأَذْنَبَ فِيكُمْ ذَنْبًا دُونَ ذَلِكَ فَقَتَلْتُمُوهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
علاء بن عرار بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : جہاں تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے ، تو تم ان کے بارے میں نہ پوچھو ، تم یہ دیکھو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ان کی قدر و منزلت کیسی تھی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں موجود ہمارے تمام دروازے بند کروا دیے تھے ، صرف ان کے دروازے کو کھلا رہنے دیا تھا ، جہاں تک سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے ، تو انہوں نے جب دو گروہ ملے تھے اس دن بڑے گناہ کا ارتکاب کیا تھا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر کیا اور انہوں نے تمہارے درمیان اس سے چھوٹے گناہ کا ارتکاب کیا اور تم لوگوں نے انہیں شہید کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14675
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخر به الطبراني فى المعجم الأوسط (1188)»
حدیث نمبر: 14676
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَدِّ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . فَقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْرَ مَا أَدْخُلُ أَنَا وَحْدِي وَأَخْرُجُ قَالَ : " مَا أَمَرْتُ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ " . فَسَدَّهَا كُلَّهَا غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ . قَالَ : وَرُبَّمَا مَرَّ وَهُوَ جُنُبٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مخصوص دروازے کے علاوہ باقی دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اتنی مقدار کی اجازت دے دیں ، جس میں سے ، میں اکیلا داخل ہو سکوں اور باہر جا سکوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مخصوص دروازے کے علاوہ باقی تمام دروازے بند کروا دیے ، راوی بیان کرتے ہیں : بعض اوقات سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہاں سے ایسی حالت میں گزر جاتے تھے کہ وہ جنابت کی حالت میں ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن عبداللہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14676
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 14677
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا أَخْرَجَ أَهْلَ الْمَسْجِدِ وَتَرَكَ عَلِيًّا قَالَ النَّاسَ فِي ذَلِكَ ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا أَنَا أَخْرَجْتُكُمْ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي ، وَلَا أَنَا تَرَكْتُهُ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَخْرَجَكُمْ وَتَرَكَهُ ، إِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ مَأْمُورٌ مَا أُمِرْتُ بِهِ فَعَلْتُ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ اخْتُلِفَ فِيهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب اہل مسجد کو نکال دیا گیا ، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا گیا ، تو لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں نے تم لوگوں کو اپنی طرف سے نہیں نکالا ہے ، اور نہ ہی علی کو اپنی طرف سے چھوڑا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو نکالا ہے ، اور اسے رہنے دیا ہے ، میں حکم کا پابند بندہ ہوں ، مجھے جو حکم دیا جاتا ہے ، میں ویسا ہی کرتا ہوں ، میں صرف اس بات کی پیروی کرتا ہوں ، جو میری طرف وحی کی جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14677
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12722)»
حدیث نمبر: 14678
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ مُرْسَلًا قَالَ : كَانَ قَوْمٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ عَلِيٌّ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلِيٌّ خَرَجُوا ، فَمَا خَرَجُوا تَلَاوَمُوا ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : وَاللَّهِ مَا أَخْرَجَنَا فَارْجِعُوا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَاللَّهِ مَا أَدْخَلْتُهُ وَأَخْرَجْتُكُمْ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَدْخَلَهُ وَأَخْرَجَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن علی نے ابراہیم بن سعد کے حوالے سے ان کے والد سے روایت نقل کی ہے ، اور محمد بن علی کے حوالے سے یہ مرسل روایت بھی منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر آئے ، تو وہ لوگ باہر چلے گئے ، جب وہ لوگ باہر چلے گئے ، تو انہوں نے ایک دوسرے کو ملامت کی اور ایک دوسرے سے کہا: اللہ کی قسم ! ہمیں نکالا نہیں گیا ، تو تم لوگ واپس چلو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی قسم ! نہ تو میں نے اسے اندر داخل کروایا اور نہ ہی تم لوگوں کو نکالا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اندر داخل کروایا اور تم لوگوں کو نکال دیا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14678
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2556)»