مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَتْحِ بَابِهِ الَّذِي فِي الْمَسْجِدِ . باب: مسجد میں موجود حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخصوص دروازے کو کھلا رکھا جانا
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَدِّ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . فَقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْرَ مَا أَدْخُلُ أَنَا وَحْدِي وَأَخْرُجُ قَالَ : " مَا أَمَرْتُ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ " . فَسَدَّهَا كُلَّهَا غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ . قَالَ : وَرُبَّمَا مَرَّ وَهُوَ جُنُبٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مخصوص دروازے کے علاوہ باقی دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اتنی مقدار کی اجازت دے دیں ، جس میں سے ، میں اکیلا داخل ہو سکوں اور باہر جا سکوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مخصوص دروازے کے علاوہ باقی تمام دروازے بند کروا دیے ، راوی بیان کرتے ہیں : بعض اوقات سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہاں سے ایسی حالت میں گزر جاتے تھے کہ وہ جنابت کی حالت میں ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن عبداللہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔