مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَتْحِ بَابِهِ الَّذِي فِي الْمَسْجِدِ . باب: مسجد میں موجود حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخصوص دروازے کو کھلا رکھا جانا
وَعَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْعَرَارِ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ ، فَقَالَ : أَمَّا عَلِيٌّ ; فَلَا تَسْأَلُوا عَنْهُ ، انْظُرُوا إِلَى مَنْزِلِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنَّهُ سَدَّ أَبْوَابَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَقَرَّ بَابَهُ ، وَأَمَّا عُثْمَانُ ; فَإِنَّهُ أَذْنَبَ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ ذَنْبًا عَظِيمًا فَعَفَا اللَّهُ عَنْهُ ، وَأَذْنَبَ فِيكُمْ ذَنْبًا دُونَ ذَلِكَ فَقَتَلْتُمُوهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤علاء بن عرار بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : جہاں تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے ، تو تم ان کے بارے میں نہ پوچھو ، تم یہ دیکھو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ان کی قدر و منزلت کیسی تھی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں موجود ہمارے تمام دروازے بند کروا دیے تھے ، صرف ان کے دروازے کو کھلا رہنے دیا تھا ، جہاں تک سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے ، تو انہوں نے جب دو گروہ ملے تھے اس دن بڑے گناہ کا ارتکاب کیا تھا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر کیا اور انہوں نے تمہارے درمیان اس سے چھوٹے گناہ کا ارتکاب کیا اور تم لوگوں نے انہیں شہید کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔