مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَتْحِ بَابِهِ الَّذِي فِي الْمَسْجِدِ . باب: مسجد میں موجود حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخصوص دروازے کو کھلا رکھا جانا
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِي ، فَقَالَ : " إِنَّ مُوسَى سَأَلَ رَبَّهُ أَنْ يَظْهَرَ مَسْجِدُهُ بِهَارُونَ ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ يَظْهَرَ مَسْجِدِي بِكَ وَبِذُرِّيَّتِكَ " . ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ : " أَنْ سُدَّ بَابِكَ " . فَاسْتَرْجَعَ ، ثُمَّ قَالَ : سَمْعٌ وَطَاعَةٌ ، فَسَدَّ بَابَهُ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى الْعَبَّاسِ بِمِثْلِ ذَلِكَ . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَنَا سَدَدْتُ أَبْوَابَكُمْ وَفَتَحْتُ بَابَ عَلِيٍّ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ فَتَحَ بَابَ عَلِيٍّ ، وَسَدَّ أَبْوَابَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا : ” سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی کہ وہ سیدنا ہارون علیہ السلام کے ذریعے ان کی مسجد کو غالب کرے اور میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی ہے کہ وہ تمہارے ذریعے اور تمہاری ذریت کے ذریعے میری مسجد کو غالب کرے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ تم اپنا دروازہ بند کر دو ، انہوں نے رجوع کی درخواست کی اور پھر یہ کہا: اس بات کی اطاعت و فرمانبرداری ہو گی ، انہوں نے اپنا دروازہ بند کر دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا پھر آپ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی طرف اس کی مانند پیغام بھیجا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے تم لوگوں کے دروازے بند نہیں کیے اور علی کا دروازہ کھلا نہیں رہنے دیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے علی کے دروازے کو کھلا رہنے دیا ہے ، اور تمہارے دروازے بند کروائے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔