حدیث نمبر: 14672
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الرَّقِيمِ الْكِنَانِيِّ قَالَ : خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ زَمَنَ الْجَمَلِ ، فَلَقِينَا سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ بِهَا ، فَقَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَدِّ الْأَبْوَابِ الشَّارِعَةِ فِي الْمَسْجِدِ ، وَتَرَكَ بَابَ عَلِيٍّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَزَادَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَدَدْتَ أَبْوَابَنَا كُلَّهَا إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ قَالَ : " مَا أَنَا سَدَدْتُ أَبْوَابَكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ سَدَّهَا " . وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن رقیم کنانی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ جنگ جمل کے زمانے میں مدینہ منورہ گئے ، ہماری ملاقات وہاں سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو انہوں نے فرمایا : مسجد میں کھلنے والے تمام دروازوں کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا کہ ان کو بند کر دیا جائے ، صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کو رہنے دیا گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمارے تمام دروازے بند کر دیے ، صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دروازے رہنے دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے تمہارے دروازوں کو بند نہیں کروایا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بند کروایا ہے ۔ “ امام أحمد کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14672
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (703) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1511)»