مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَتْحِ بَابِهِ الَّذِي فِي الْمَسْجِدِ . باب: مسجد میں موجود حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخصوص دروازے کو کھلا رکھا جانا
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : كَانَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْوَابٌ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ . قَالَ : فَقَالَ يَوْمًا : " سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ " . قَالَ : فَتَكَلَّمَ أُنَاسٌ فِي ذَلِكَ . ¤ قَالَ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنِّي أَمَرْتُ بِسَدِّ هَذِهِ الْأَبْوَابِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ ، فَقَالَ فِيهِ قَائِلُكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا سَدَدْتُ شَيْئًا وَلَا فَتَحْتُهُ وَلَكِنِّي أُمِرْتُ بِشَيْءٍ فَاتَّبَعْتُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کے مخصوص دروازے تھے جو مسجد میں کھلتے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ان دروازوں کو بند کر دو البتہ علی کے دروازے کو رہنے دو ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” امابعد ! میں نے تمام دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا اور علی کے دروازے کو کھلا رکھنے کو کہا: ، اس کے بارے میں تم میں سے کسی نے کچھ کہا: ، اللہ کی قسم ! میں نے کوئی بھی چیز بند نہیں کی اور کوئی بھی چیز کھولی نہیں ( یعنی اپنی طرف سے ایسا نہیں کیا ) بلکہ مجھے جو حکم دیا گیا ہے ، میں نے اس کی پیروی کی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔