حدیث نمبر: 14639
وَعَنْ زِيَادِ بْنِ مُطَرِّفٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ - وَرُبَّمَا لَمْ يَذْكُرْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَحْيَا حَيَاتِي ، وَيَمُوتَ مَمَاتِي ، وَيَسْكُنَ جَنَّةَ الْخُلْدِ الَّذِي وَعَدَنِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - غَرَسَ قُضْبَانَهَا بِيَدِهِ ; فَلْيَتَوَلَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ; فَإِنَّهُ لَنْ يُخْرِجَكُمْ مِنْ هُدًى ، وَلَنْ يُدْخِلَكُمْ فِي ضَلَالَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

زیاد بن مطرف نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے ، اور بعض اوقات وہ اس میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کرتے ہیں ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ میری حیات کے مطابق زندگی بسر کرے اور میری موت کے مطابق مرے اور اس جنت الخلد میں سکونت اختیار کرے ، جس کا میرے پروردگار نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے ، اور وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے وہاں کے پودے بوئے ، تو اسے علی بن ابوطالب سے محبت رکھنی چاہیے ، کیونکہ وہ تمہیں ہدایت سے نکالے گا نہیں ، اور وہ تمہیں گمراہی میں داخل نہیں کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14639
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5067)»