حدیث نمبر: 14638
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سِرِيَّةٍ ، فَاسْتَعْمَلَ عَلَيْنَا عَلِيًّا ، فَلَمَّا جِئْنَا قَالَ : " كَيْفَ رَأَيْتُمْ صَاحِبَكُمْ ؟ " . فَإِمَّا شَكْوَتُهُ وَإِمَّا شَكَاهُ غَيْرِي قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، وَكُنْتُ رَجُلًا مِكْبَابًا ، فَإِذَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ يَقُولُ : " مَنْ كُنْتُ وَلِيُّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ " . فَقُلْتُ : لَا أَسُوءُكَ فِيهِ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بریده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو ایک جنگی مہم پر بھیجا ، آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر کیا ، جب ہم لوگ واپس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے اپنے متعلقہ فرد کو کیسا پایا ؟ راوی کہتے ہیں : تو شاید میں نے ان کی شکایت کی یا میرے علاوہ کسی اور نے ان کی شکایت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا ، میں ایک ایسا شخص تھا ، جو زیادہ تر زمین کی طرف نظر رکھتا تھا ( جب میں نے نظر اٹھا کر دیکھا ، تو ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس کا میں ولی ہوں ، تو علی بھی اس کا ولی ہے ۔ “ تو میں نے کہا: اب میں اُن کے بارے میں ، میں دوبارہ کبھی بھی ، آپ کو کوئی بات بری نہیں لگنے دوں گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14638
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (191) أخرجه البزار فى المسند (2535) أخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (348)»