مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . باب: نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان :’’ میں جس کا مولیٰ ہوں علی بھی اس کا مولیٰ ہے “
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالشَّجَرَاتِ فَقُمَّ مَا تَحْتَهَا وَرُشَّ ، ثُمَّ خَطَبَنَا ، فَوَاللَّهِ مَا مِنْ شَيْءٍ يَكُونُ إِلَى يَوْمِ السَّاعَةِ إِلَّا قَدْ أَخْبَرَنَا بِهِ يَوْمَئِذٍ . ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ أَوْلَى بِكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ ؟ " . قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَوْلَى بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا قَالَ : " فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ " . يَعْنِي عَلِيًّا ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ فَبَسَطَهَا ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ أَتَمَّ مِنْهُ ، وَفِيهِ مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درختوں کے بارے میں حکم دیا ، تو ان کے نیچے جھاڑو دی گئی ، وہاں پانی چھڑکا گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا : اللہ کی قسم ! قیامت قائم ہونے تک جو کچھ بھی ہونا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں ہمیں بتا دیا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! کون تمہارے جان سے زیادہ تمہارے قریب ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول ہماری جان سے زیادہ ہمارے قریب ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کا میں مولیٰ ہوں ، یہ بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اسے پھیلایا اور پھر فرمایا : ” اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : ” میں جس کا مولیٰ ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن خلاد انصاری ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اسے امام بزار نے اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ بصری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔