مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . باب: نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان :’’ میں جس کا مولیٰ ہوں علی بھی اس کا مولیٰ ہے “
وَعَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : دَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ الْمَسْجِدَ ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ ، فَقَامَ إِلَيْهِ شَابٌّ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ ، سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " ؟ . قَالَ : فَقَالَ : إِنِّي أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي أَحَدِ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رَجُلٌ غَيْرُ مُسَمًّى ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ فِي الْآخَرِ ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤داؤد بن یزید اؤدی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے ، لوگ ان کے پاس اکٹھے ہو گئے ، ایک نوجوان اٹھ کر ان کے پاس آیا اور بولا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں جس کا مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں جس کا مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا ، اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اور دوسری سند کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔