مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . باب: نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان :’’ میں جس کا مولیٰ ہوں علی بھی اس کا مولیٰ ہے “
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا فِي الرَّحْبَةِ يُنَاشِدُ النَّاسَ : أَنْشُدُ اللَّهَ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِيَّ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . لَمَا قَامَ فَشَهِدَ . ¤ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَحَدِهِمْ عَلَيْهِ سَرَاوِيلُ ، فَقَالُوا : نَشْهَدُ أَنَا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ : " أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، وَأَزْوَاجِي أُمَّهَاتُهُمْ ؟ " . قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ . ¤عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا جب وہ رحبہ میں تھے ( یہ کسی جگہ کا نام ہے یا شاید اس سے مراد کھلی جگہ ہے ) انہوں نے لوگوں کو واسطہ دے کر دریافت کیا کہ میں اس شخص کو واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے دن یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا : ” جس کا میں مولیٰ ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ “ تو ایسا شخص کھڑا ہو اور اس بات کی گواہی دے ، عبدالرحمن نامی راوی کہتے ہیں : تو بارہ بدری صحابہ کرام کھڑے ہو گئے ۔ ان میں سے ایک کا منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے کہ انہوں نے شلوار پہنی ہوئی تھی ، ان لوگوں نے یہ بات بیان کی کہ ہم لوگ یہ گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے دن یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : کیا میں مومنین کے نزدیک ان کی جان سے زیادہ قریب نہیں ہوں اور میری بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور اسے عبداللہ بن أحمد نے بھی نقل کیا ہے ۔