حدیث نمبر: 14614
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ ذِي مُرٍّ ، وَسَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ قَالُوا : سَمِعْنَا عَلِيًّا يَقُولُ : نَشَدْتُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ لَمَا قَامَ ، فَقَامَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَشَهِدُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ ، وَأَحِبَّ مَنْ أَحَبَّهُ ، وَأَبْغِضْ مَنْ يُبْغِضُهُ ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

عمرو بن ذی مر اور سعید بن وہب اور زید بن یثیع کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، یہ حضرات بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں ، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے دن یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا : وہ کھڑا ہو جائے تو تیرہ افراد کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا : کیا میں مومنین کے نزدیک ان کی جان سے زیادہ قریب نہیں ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں رسول اللہ ! راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا : ” جس کا میں مولیٰ ہوں تو یہ بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھنا ، اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ، جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا ، جو اس سے بغض رکھے ، تو اس سے بغض رکھنا ، جو اس کی مدد کرے ، تو اس کی مدد کرنا ، جو اسے رسوا کرنے کی کوشش کرے ، تو اسے رسوا کرنا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف فطر بن خلیفہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14614
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2542)»