حدیث نمبر: 14611
وَعَنْ عَمْرٍو ذِي مُرٍّ ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَا : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ ، فَقَالَ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ ، وَأَعِنْ مَنْ أَعَانَهُ " . ¤ قُلْتُ : لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ عَنْ زَيْدٍ وَحْدَهُ بِاخْتِصَارٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي أَوَّلِهِ : نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوَادٍ يُقَالُ لَهُ : خُمٌّ ، فَأَمَرَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّاهَا بِهَجِيرٍ قَالَ : فَخَطَبَ وَظَلَّلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى شَجَرَةٍ مِنَ الشَّمْسِ ، فَقَالَ : " أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ - أَوْ أَلَسْتُمْ تَشْهَدُونَ - أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمروذی مر رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ، یہ دونوں بیان کرتے ہیں : غدیر خم کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” میں جس کا مولیٰ ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو شخص اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا اور جو شخص اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ، جو شخص اس کی مدد کرے ، تو اس کی مدد کرنا ، جو شخص اس کی اعانت کرے ، تو اس کی اعانت کرنا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا زید بن ارقم کی نقل کردہ حدیث امام ترمذی نے نقل کی ہے ، جس میں صرف یہ الفاظ ہیں : ” میں جس کا مولیٰ ہو ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام أحمد نے صرف سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک وادی میں پڑاؤ کیا جس کا نام خم تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بارے میں حکم دیا ، آپ نے نماز جلدی ادا کر لی ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک درخت کے ذریعے سایہ موجود تھا جو دھوپ سے بچنے کے لئے تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) کیا تم لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو کہ میں ہر مومن کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ قریب ہوں ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ اس روایت کو امام بزار نے بھی نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ بصری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14611
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2539) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5092)»