مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . باب: نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان :’’ میں جس کا مولیٰ ہوں علی بھی اس کا مولیٰ ہے “
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : جَمَعَ عَلِيٌّ النَّاسَ فِي الرَّحْبَةِ ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ : أَنْشُدُ بِاللَّهِ كُلَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَا قَالَ لَمَا قَامَ ، فَقَامَ إِلَيْهِ ثَلَاثُونَ مِنَ النَّاسِ . ¤ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : فَقَامَ نَاسٌ كَثِيرٌ فَشَهِدُوا حِينَ أَخَذَ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : " أَتَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ¤ قَالَ : فَخَرَجْتُ كَأَنَّ فِي نَفْسِي شَيْئًا ، فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنِّي سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ كَذَا وَكَذَا قَالَ : فَمَا تُنْكِرُ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ابوطفیل بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو رحبہ کے مقام پر ( یا کھلے میدان میں ) جمع کیا اور پھر ان سے فرمایا : میں ہر اس مسلمان شخص کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے دن ایک بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا ، کہ وہ شخص کھڑا ہو جائے ، راوی کہتے ہیں : تو تیس افراد ان کے سامنے کھڑے ہوئے ، ابونعیم نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ بہت سے لوگ کھڑے ہو گئے اور ان لوگوں نے یہ بات گواہی دے کر بیان کی ، جب انہوں نے ان کا ہاتھ پکڑا تھا ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ) یہ ارشاد فرمایا تھا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ میں مومنین کے نزدیک ان کی جان سے زیادہ قریب ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تو میں جس کا مولیٰ ہوں یہ بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو شخص اس سے محبت رکھتا ہو ، تو اس سے محبت رکھنا اور جو شخص اس سے دشمنی رکھتا ہو ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں وہاں سے نکلا میرے من میں کچھ الجھن تھی ، میری ملاقات سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے ان سے کہا: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : تمہیں کس بات پر اعتراض ہے ؟ میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف فطر بن خلیفہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔