مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِي فَضْلِهِ وَبِشَارَتِهِ بِالْجَنَّةِ . باب: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں مختلف روایات اور انہیں جنت کی بشارت ہونا
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ لَهُ : يَا ابْنَ أَخِي ، أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ : لَا . وَلَكِنْ خَلَصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ [ وَالْيَقِينُ ] مَا يَخْلُصُ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا . قَالَ : فَتَشَهَّدَ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بَعَثَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحَقِّ ، فَكُنْتُ فِيمَنِ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ، وَآمَنَ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ هَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ كَمَا قُلْتُ ، وَنِلْتُ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ ، وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عبیداللہ بن عدی بن خیار بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تاہم یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا علم اور یقین مجھ تک اسی طرح خالص طور پر پہنچا ہے ، جس طرح وہ کسی پردہ دار خاتون تک پردے میں پہنچے گا ، تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کلمہ شہادت پڑھو ، پھر انہوں نے فرمایا : امابعد ! بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا اور میں ان افراد میں سے ایک تھا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو قبول کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کے ہمراہ مبعوث ہوئے تھے ، میں اس پر ایمان لایا ، میں نے دو مرتبہ ہجرت کی ، جس طرح میں نے بیان کیا ہے ، اور مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا شرف حاصل ہے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت حاصل کی ، اللہ کی قسم ! نہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کبھی نافرمانی کی اور نہ ہی آپ کو کبھی دھوکہ دیا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دے دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔