حدیث نمبر: 14516
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ تَخَلَّفَ بِالْمَدِينَةِ عَلَى امْرَأَتِهِ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَتْ مِعَزَّةً وَجِعَةً ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمِهِ قَالَ : وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ؟ قَالَ : " وَأَجْرُكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ حَسَنُ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین

عروہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ( غزوہ بدر کے موقع پر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں ، ان کی خاطر مدینہ منورہ میں رہ گئے تھے ، وہ خاتون شدید بیمار تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لئے ( غزوہ بدر کے مال غنیمت میں سے ) حصہ مقرر کیا تھا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے اجر کا کیا ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں اجر بھی ملے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یہ روایت مرسل ہے ، اور سند کے اعتبار سے حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14516
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (126)»