حدیث نمبر: 14515
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اشْتَكَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِمْ عَلَيْهَا فَإِنَّهُ لَا بُدَّ لَهَا مِنِّي أَوْ مِنْكَ ، وَأَنْتَ أَحَقُّ " . فَخَلَفَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهَا ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُبَشِّرُهُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَتَمَّ عِدَّتَهُمْ بِكَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی بیمار ہو گئیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ) ارشاد فرمایا : تم اس کی دیکھ بھال کرو کیونکہ اس کے لئے میرے یا تمہارے میں سے کسی ایک کا ہونا ضروری ہے ، اور تم اس بات کے زیادہ حق دار ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس خاتون کے لئے پیچھے چھوڑ دیا تھا ، جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح نصیب کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور انہیں یہ خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ نے تم سمیت ان کی تعداد کو مکمل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14515
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف