حدیث نمبر: 14517
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا بَعَثَ عُثْمَانَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَبَايَعَ أَصْحَابَهُ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ ، بَايَعَ لِعُثْمَانَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى ، فَقَالَ النَّاسُ : هَنِيئًا لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ آمِنًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ مَكَثَ كَذَا وَكَذَا مَا طَافَ بِالْبَيْتِ حَتَّى أَطُوفَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اہل مکہ کی طرف بھیج دیا ، پھر آپ نے اپنے اصحاب سے بیعت رضوان لی ، تو آپ نے دو ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے پر رکھ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت لی ، لوگوں نے کہا: ابوعبداللہ کو مبارک باد ہو کہ وہ امن کی حالت میں بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر وہ اتنے اتنے عرصے تک بھی ( مکہ میں ) ٹھہرا رہے ، تو بھی وہ اس وقت تک بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا جب تک میں طواف نہیں کر لیتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14517
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6263 و 144)»