مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ وَالْحُدَيْبِيَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شادی کا بیان
عَنْ شَقِيقٍ قَالَ : لَقِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ ، فَقَالَ لَهُ الْوَلِيدُ : مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَفَوْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ ؟ قَالَ [ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ]: أَبْلِغْهُ عَنِّي أَنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ - قَالَ عَاصِمٌ : يَوْمَ أُحُدٍ - وَلَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ بَدْرٍ ، وَلَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ . قَالَ : فَانْطَلَقَ ، فَخَبَّرَ ذَلِكَ عُثْمَانَ . قَالَ : فَقَالَ : أَمَّا قَوْلُهُ : إِنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ فَكَيْفَ يُعَيِّرُنِي بِذَنْبٍ قَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُ . قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : ( إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ ) . وَأَمَّا قَوْلُهُ : إِنِّي لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ بَدْرٍ ; فَإِنِّي كُنْتُ أُمَرِّضُ رُقَيَّةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى مَاتَتْ ، وَقَدْ ضَرَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمٍ ، وَمَنْ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمٍ فَقَدْ شَهِدَ . وَأَمَّا قَوْلُهُ : إِنِّي لَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ ; فَإِنِّي لَا أُطِيقُهَا أَنَا وَلَا هُوَ فَائْتِهِ فَحَدِّثْهُ بِذَلِكَ . . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ بِطُولِهِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤شقیق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ملاقات ولید بن عقبہ سے ہوئی ، تو ولید نے ان سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بے رخی اختیار کی ، تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: انہیں میری طرف سے یہ پیغام بھیج دو کہ میں یوم عینین ۔ عاصم راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یوم احد ہے ۔ کے دن فرار نہیں ہوا تھا اور میں غزوہ بدر سے پیچھے نہیں رہا تھا اور میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے کو ترک نہیں کیا ۔ راوی کہتے ہیں : ولید گیا ، اور اس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک ان کی اس بات کا تعلق ہے کہ میں یوم عینین میں فرار نہیں ہوا تھا ، تو وہ کسی ایسے گناہ کے حوالے سے مجھے کیسے عار دلا سکتے ہیں ؟ جس سے اللہ تعالیٰ درگزر کیا ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” بیشک تم میں سے جو لوگ اس دن پیٹھ پھیر گئے تھے جب دو گروہ ایک دوسرے کے مدمقابل آئے تھے ، تو ان کے کیے ہوئے کسی عمل کی وجہ سے ، شیطان نے انہیں پھسلا دیا تھا ، تحقیق اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ۔ “ جہاں تک ان کی اس بات کا تعلق ہے کہ میں غزوہ بدر سے پیچھے نہیں رہا تھا ، تو ( میرے معاملے کی وجہ یہ ہے ) کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمار داری کرتا رہا ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ، اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے حصہ مقرر کیا تھا اور جس شخص کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حصہ مقرر کیا ہو وہ گویا جنگ میں شریک ہوا تھا ، جہاں تک ان ( یعنی سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ) کی اس بات کا تعلق ہے ، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے کو ترک نہیں کیا ، تو نہ تو میں اس بات کی طاقت رکھتا ہوں اور نہ وہ اس بات کی طاقت رکھتے ہیں ( کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے پر مکمل طور پر عمل پیرا ہوں ) تو ان کے پاس جاؤ اور انہیں یہ بات بتا دو ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے اختیار کیا ہے امام طبرانی نے اسے طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔