حدیث نمبر: 14506
وَعَنْ بَدْرِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ : وَقَفَ عَلَيْنَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَوْمَ الدَّارِ ، فَقَالَ : أَلَا تَسْتَحْيُونَ مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ ؟ قُلْتُ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَرَّ بِي عُثْمَانُ وَعِنْدِي مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، فَقَالَ : شَهِيدٌ يَقْتُلُهُ قَوْمُهُ ، إِنَّا لَنَسْتَحْيِي مِنْهُ " . ¤ قَالَ بَدْرٌ : فَانْصَرَفْنَا عَنْهُ عِصَابَةً مِنَ النَّاسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْوَسَاوِسِيُّ ، وَكَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین

بدر بن خالد بیان کرتے ہیں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے محاصرے کے موقع پر ایک دن ہمارے پاس آ کر ٹھہرے اور بولے : کیا تم لوگ اس شخص سے حیاء نہیں کرتے ہو جس سے فرشتے حیاء کرتے ہیں ، میں نے عرض کی : اس کا کیا مفہوم ہے ؟ انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک مرتبہ عثمان میرے پاس سے گزرا اس وقت میرے پاس ایک فرشتہ موجود تھا ، اس نے کہا: یہ شہید ہو گا ، اس کی قوم اسے قتل کر دے گی اور ہم ( فرشتے ) ان سے حیاء کرتے ہیں ۔ “ بدر نامی راوی کہتے ہیں : تو ہم کچھ لوگ انہیں چھوڑ کر واپس چلے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل وساوسی ہے ، جو حدیث ایجاد کرتا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14506
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4939)»