مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي حَيَائِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حیاء کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتٍ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ فَطَرَحَهُ بَيْنَ رِجْلَيْهِ ، وَفَخِذَاهُ خَارِجَتَانِ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ ، فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ ، فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ ، فَأَذِنَ لَهُ . فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ مُسْرِعًا حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَلَمَّا خَرَجَ الْقَوْمُ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَلَمْ تُغَيَّرْ عَنْ حَالِكَ ، فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ قُمْتَ ؟ ! فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ ; إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَسْتَحْيِي مِنْ عُثْمَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف فرما تھے آپ کے جسم پر تہبند موجود تھا جسے آپ نے ٹانگوں سے ہٹایا ہوا تھا اور آپ کے زانوں اس سے نکلے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی ، وہ اندر آ گئے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی ، وہ اندر آ گئے ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ فرمایا تو آپ تیزی سے اٹھے اور گھر کے اندر تشریف لے گئے ، یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو گراں گزری ، جب وہ لوگ چلے گئے تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما آئے تو آپ نے اپنی حالت کو تبدیل نہیں کیا ، لیکن جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اندر آئے تو آپ اٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عائشہ ! کیا میں ایسے فرد سے حیاء نہ کروں ؟ جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں ، بے شک فرشتے عثمان سے حیاء کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔