حدیث نمبر: 14468
وَفِي رِوَايَةٍ : وَكَانَ - يَعْنِي عُمَرَ - إِذَا سَلَكَ طَرِيقًا وَجَدْنَاهُ سَهْلًا ، فَإِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّهَلَا بِعُمَرَ ، كَانَ فَضْلٌ مَا بَيْنَ الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ ، وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَخْدِمُ مِثْلَهُ حَتَّى أَمُوتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ( سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ” سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب کسی راستے پر چلتے تھے ، تو ہم اسے ہموار پاتے تھے ، جب نیک لوگوں کا ذکر ہو گا ، تو اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اہتمام کے ساتھ ذکر ہو گا ، وہ زیادہ ہونے اور کمی کے دوران ، فصل ( یعنی حد فاصل ) تھے ، اللہ کی قسم ! میری یہ خواہش ہے کہ میں مرتے دم تک ان جیسے کی خدمت کرتا رہتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14468
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8807)»