حدیث نمبر: 14462
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَالَ لِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : لِيَبْكِ الْإِسْلَامُ عَلَى مَوْتِ عُمَرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَبِيبٌ كَاتِبُ مَالِكٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل نے مجھ سے کہا: عمر کے انتقال پر اسلام روئے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب ہے ، جو امام مالک کا کاتب ہے ، اور وہ متروک اور کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب ہے ، جو امام مالک کا کاتب ہے ، اور وہ متروک اور کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 14463
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا طَعَنَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عُمَرَ طَعَنَهُ طَعْنَتَيْنِ ، فَظَنَّ عُمَرُ أَنَّ لَهُ ذَنْبًا فِي النَّاسِ لَا يَعْلَمُهُ ، فَدَعَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَكَانَ يُحِبُّهُ وَيُدْنِيهِ وَيَسْمَعُ مِنْهُ ، فَقَالَ : أُحِبُّ أَنْ نَعْلَمَ عَنْ مَلَأٍ مِنَ النَّاسِ كَانَ هَذَا ؟ فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَكَانَ لَا يَمُرُّ بِمَلَأٍ مِنَ النَّاسِ إِلَّا وَهُمْ يَبْكُونَ ، فَرَجَعَ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا مَرَرْتُ عَلَى مَلَأٍ إِلَّا وَهُمْ يَبْكُونَ كَأَنَّهُمْ فَقَدُوا الْيَوْمَ أَبْكَارَ أَوْلَادِهِمْ ، فَقَالَ : مَنْ قَتَلَنِي ؟ فَقَالَ : أَبُو لُؤْلُؤَةَ الْمَجُوسِيُّ عَبْدُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَرَأَيْتُ الْبِشْرَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَبْتَلِنِي أَحَدٌ يُحَاجُّنِي يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ ، أَمَا أَنِّي قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمُ أَنْ تَجْلِبُوا إِلَيْنَا مِنَ الْعُلُوجِ أَحَدًا فَعَصَيْتُمُونِي ، ثُمَّ قَالَ : ادْعُوا إِلَيَّ إِخْوَانِي قَالُوا : وَمَنْ ؟ قَالَ : عُثْمَانُ ، وَعَلِيٌّ ، وَطَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فِي حِجْرِي ، فَلَمَّا جَاءُوا ، قُلْتُ : هَؤُلَاءِ قَدْ حَضَرُوا قَالَ : نَعَمْ . نَظَرْتُ فِي أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَوَجَدْتُكُمْ أَيُّهَا السِّتَّةُ رُءُوسَ النَّاسِ وَقَادَتَهِمْ ، وَلَا يَكُونُ هَذَا الْأَمْرُ إِلَّا فِيكُمْ ، مَا اسْتَقَمْتُمْ يَسْتَقِمْ أَمْرُ النَّاسِ ، وَإِنْ يَكُنِ اخْتِلَافٌ يَكُنْ فِيكُمْ . فَلَمَّا سَمِعْتُهُ ذَكَرَ الِاخْتِلَافَ وَالشِّقَاقَ وَإِنْ يَكُنْ ظَنَنْتُ أَنَّهُ كَائِنٌ ; لِأَنَّهُ قَلَّمَا قَالَ شَيْئًا إِلَّا رَأَيْتُهُ ، ثُمَّ نَزَفَهُ الدَّمُ فَهَمَسُوا بَيْنَهُمْ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُبَايِعُوا رَجُلًا مِنْهُمْ ، فَقُلْتُ : إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حَيٌّ بَعْدُ ، وَلَا يَكُونُ خَلِيفَتَانِ يَنْظُرُ أَحَدُهُمَا إِلَى الْآخَرِ ، فَقَالَ : احْمِلُونِي ، فَحَمَلْنَاهُ ، فَقَالَ : تَشَاوَرُوا ثَلَاثًا ، وَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صُهَيْبٌ قَالُوا : مَنْ نُشَاوِرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : شَاوِرُوا الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ ، وَسَرَاةَ مَنْ هُنَا مِنَ الْأَجْنَادِ ، ثُمَّ دَعَا بِشَرْبَةٍ مِنْ لَبَنٍ ، فَشَرِبَ فَخَرَجَ بَيَاضُ اللَّبَنِ مِنَ الْجُرْحَيْنِ ، فَعَرَفَ أَنَّهُ الْمَوْتُ ، فَقَالَ : الْآنَ لَوْ أَنَّ لِيَ الدُّنْيَا كُلَّهَا لَافْتَدَيْتُ بِهَا مِنْ هَوْلِ الْمَطْلَعِ ، وَمَا ذَاكَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ أَنْ أَكُونَ رَأَيْتُ إِلَّا خَيْرًا ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَإِنْ قُلْتُ فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا ، أَلَيْسَ قَدْ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُعِزَّ اللَّهُ بِكَ الدِّينَ وَالْمُسْلِمِينَ إِذْ يَخَافُونَ بِمَكَّةَ ، فَلَمَّا أَسْلَمْتَ كَانَ إِسْلَامُكَ عِزًّا ، وَظَهَرَ بِكَ الْإِسْلَامُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ ، وَهَاجَرْتَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَكَانَتْ هِجْرَتُكَ فَتْحًا ، ثُمَّ لَمْ تَغِبْ عَنْ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قِتَالِ الْمُشْرِكِينَ مِنْ يَوْمِ كَذَا وَيَوْمِ كَذَا ، ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ، فَوَازَرْتَ الْخَلِيفَةَ بَعْدَهُ عَلَى مِنْهَاجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبْتَ بِمَنْ أَقْبَلَ عَلَى مَنْ أَدْبَرَ حَتَّى دَخَلَ النَّاسُ فِي الْإِسْلَامِ طَوْعًا وَكَرْهًا ، ثُمَّ قُبِضَ الْخَلِيفَةُ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ، ثُمَّ وُلِّيتَ بِخَيْرِ مَا وُلِّيَ النَّاسُ ، مَصَّرَ اللَّهُ بِكَ الْأَمْصَارَ ، وَجَبَى بِكَ الْأَمْوَالَ ، وَنَفَى بِكَ الْعَدُوَّ ، وَأَدْخَلَ اللَّهُ بِكَ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ تَوْسِعَتِهِمْ فِي دِينِهِمْ ، وَتَوْسِعَتِهِمْ فِي أَرْزَاقِهِمْ ، ثُمَّ خَتَمَ لَكَ بِالشَّهَادَةِ ; فَهَنِيئًا لَكَ . فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنَّ الْمَغْرُورَ مَنْ تَغُرُّونَهُ . ثُمَّ قَالَ : أَتَشْهَدُ لِي يَا عَبْدَ اللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ، أَلْصِقْ خَدِّي بِالْأَرْضِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، فَوَضَعْتُهُ مِنْ فَخِذِي عَلَى سَاقِي ، فَقَالَ : أَلْصِقْ خَدِّي بِالْأَرْضِ ، فَتَرَكَ لِحْيَتَهُ وَخَدَّهُ حَتَّى وَقَعَ بِالْأَرْضِ ، فَقَالَ : وَيْلَكَ وَوَيْلَ أُمِّكَ يَا عُمَرُ ! إِنْ لَمْ يَغْفِرِ اللَّهُ لَكَ يَا عُمَرُ . ثُمَّ قُبِضَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فَلَمَّا قُبِضَ أَرْسَلُوا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ : لَا آتِيكُمُ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا مَا أَمَرَكُمْ بِهِ مِنْ مُشَاوَرَةِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، وَسَرَاةِ مَنْ هُنَا مِنَ الْأَجْنَادِ . . ¤ قَالَ الْحَسَنُ : وَذُكِرَ لَهُ فِعْلُ عُمَرَ عِنْدَ مَوْتِهِ وَخَشْيَتُهُ مِنْ رَبِّهِ ، فَقَالَ : هَكَذَا الْمُؤْمِنُ جَمَعَ إِحْسَانًا وَشَفَقَةً ، وَالْمُنَافِقُ جَمَعَ إِسَاءَةً وَغِرَّةً ، وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ فِيمَا مَضَى وَلَا فِيمَا بَقِيَ عَبْدًا ازْدَادَ إِحْسَانًا إِلَّا ازْدَادَ مَخَافَةً وَشَفَقَةً مِنْهُ ، وَلَا وَجَدْتُ فِيمَا مَضَى وَلَا فِيمَا بَقِيَ عَبْدًا ازْدَادَ إِسَاءَةً إِلَّا ازْدَادَ غِرَّةً . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب ابولؤلؤ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر وار کیا ، تو اس نے ان پر دو وار کیے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ گمان کیا کہ شاید لوگوں کے بارے میں ان سے کوئی ایسی کوتاہی سرزد ہوئی ہے ، جو ان کے علم میں نہیں ہے ۔ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بلوایا ، وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتے تھے ۔ انہیں اپنے قریب رکھتے تھے ۔ ان کی بات سنا کرتے تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ چاہتا ہوں کہ اس صورت حال کے بارے میں کچھ لوگوں کی رائے معلوم کروں ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وہاں سے نکلے ، وہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے ، وہ جن بھی لوگوں کے پاس سے گزرے ، وہ لوگ رو رہے تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے اور بولے : اے امیر المؤمنین ! میں لوگوں کے جس بھی گروہ کے پاس سے گزرا تو وہ رو رہے تھے ، یوں جیسے انہوں نے اپنی کمسن اولاد کو آج کھو دیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : مجھے کس نے قتل کرنے کی کوشش کی ہے ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام لؤلؤ نے ایسا کیا ہے ، جو مجوسی ہے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے چہرے پر خوشی کے آثار دیکھے ، انہوں نے کہا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے کسی ایسے شخص کے حوالے سے مجھے آزمائش کا شکار نہیں کیا کہ جو لا الہ الا اللہ پڑھتا ہو ، میں تم لوگوں کو منع کیا کرتا تھا کہ تم ان عجمی غلاموں کو ہمارے پاس ( مدینہ منورہ ) نہ لے کے آؤ ، لیکن تم لوگوں نے میری بات نہیں مانی ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے بھائیوں کو میرے پاس بلا کے لاؤ ۔ لوگوں نے دریافت کیا : کن لوگوں کو ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا : عثمان ، علی ، طلحہ ، زبیر ، عبدالرحمن بن عوف ، سعد بن ابی وقاص ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو پیغام بھیجا ، پھر انہوں نے سر میری گود میں رکھ لیا ، جب وہ حضرات آئے ، تو میں نے کہا: یہ حضرات آ گئے ہیں ، انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے ، میں نے مسلمانوں کے معاملے کا جائزہ لیا تو میں نے آپ چھ حضرات کو پایا کہ آپ لوگوں کے سردار اور قائد ہیں ، اور حکومت آپ کے درمیان ہونی چاہیے ، جب تک آپ لوگ ٹھیک رہیں گے لوگوں کا معاملہ ٹھیک رہے گا ، اور اگر آپ لوگوں کے درمیان اختلاف ہو گیا ، تو لوگوں کے درمیان بھی اختلاف ہو جائے گا ، راوی کہتے ہیں : جب میں نے ان لوگوں کے بارے میں سنا کہ ان کے درمیان باہمی طور پر اختلاف پایا جاتا ہے ، تو میں نے یہ گمان کیا کہ ایسا ہو گا کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جو بھی بات کہتے تھے ، وہ میں نے پوری ہوتی ہوئی دیکھی ہے ، پھر انہوں نے سرگوشیاں شروع کر دیں ، یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ وہ ان میں سے کسی ایک فرد کی بیعت کر لیں گے ، تو میں نے کہا: ابھی امیر المؤمنین زندہ ہیں ، ایک وقت میں دو خلیفہ نہیں ہو سکتے کہ ان میں سے کوئی ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہا ہو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ مجھے بٹھاؤ ، ہم نے انہیں بٹھایا ، انہوں نے فرمایا : تم لوگ تین دن تک مشورہ کرو ، اس دوران صہیب لوگوں کو نماز پڑھائے گا ، لوگوں نے دریافت کیا : اے امیر المؤمنین ! ہم کس سے مشورہ لیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم مہاجرین سے انصار سے اور یہاں لشکروں کے جو امیر ہیں ، ان سے مشورہ لو ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دودھ کا پیالہ منگوایا اسے پیا ، تو ان کے دونوں زخموں کے درمیان میں سے سفید دودھ باہر آ گیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اندازہ ہو گیا کہ اب موت قریب آ چکی ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ وہ وقت ہے کہ اگر مجھے ساری دنیا مل جائے ، تو قیامت کی ہولناکی سے بچنے کے لئے میں اسے فدیہ کے طور پر دے دوں گا ، اور یہ سب کچھ اس کے باوجود ہو گا کہ میں نے صرف بھلائی ہی دیکھی ہے ، اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ یہ بات کہہ رہے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے ، کیا ایسا نہیں ہے کہ اللہ کے رسول نے یہ دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے دین اور مسلمانوں کو غلبہ عطا کرے ، جبکہ مسلمان مکہ میں خوف کے عالم میں رہ رہے تھے ، جب آپ نے اسلام قبول کیا ، تو آپ کا اسلام قبول کرنا غلبے کا باعث تھا ، آپ کے ذریعے اسلام سربلند ہوا ، اللہ کے رسول اور آپ کے اصحاب سربلند ہوئے ، پھر آپ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی ، تو یہ فتح کا باعث تھی ، آپ کسی بھی ایسی جنگ میں غیر موجود نہیں رہے ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرکت کی ہو ، جس کا تعلق مشرکین کے ساتھ لڑائی سے تھا اور یہ فلاں وقت سے لے کر فلاں وقت تک رہا ، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے راضی تھے ، اس کے بعد آپ نے خلیفہ کا ساتھ دیا ، جنہوں نے اللہ کے رسول کے طریقے کے مطابق کام کیا ، تو آپ نے اس سلسلے میں بھرپور کوشش کی ، یہاں تک کہ لوگ اپنی خوشی کے ساتھ یا مجبوری کے عالم میں اسلام میں داخل ہوئے ، جب خلیفہ کا انتقال ہوا تو وہ آپ سے راضی تھے ، پھر آپ بھلائی کے ہمراہ والی بن گئے ، جو لوگوں کے امور کے والی تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے شہروں کو آباد کیا ، آپ کے ذریعے مال عطا کیا ، دشمن کو سرنگوں کیا ، آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہر گھرانے کے لوگوں کے دین میں وسعت عطا کی اور ان کے رزق میں وسعت عطا کی اور پھر آپ کا خاتمہ شہادت کے ذریعے کیا ، تو آپ کو مبارک باد ہو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! وہ شخص غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے ، جسے تم لوگ غلط فہمی کا شکار کرو ، پھر انہوں نے فرمایا : اے عبداللہ ! کیا تم کیا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں میرے حق میں یہ گواہی دو گے ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ! حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، اے عبداللہ بن عمر ( رضی اللہ عنہما ) ! تم میرا رخسار زمین کے ساتھ ملا دو ، میں نے انہیں اپنے زانوں سے اپنی پنڈلی کی طرف کیا ، تو انہوں نے کہا: میرا رخسار زمین کے ساتھ ملاؤ ، یہاں تک کہ انہوں نے اپنی داڑھی اور رخسار زمین پر رکھ دیا اور پھر بولے : اے عمر تمہارے لئے بربادی ہے ۔ اے عمر ! تمہاری ماں کے لئے بربادی ہے ، اگر اللہ تعالیٰ نے تمہاری مغفرت نہ کی ۔ پھر ان کا انتقال ہو گیا ، اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے ۔ جب ان کا انتقال ہو گیا ، تو لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ پیغام بھیجا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں آپ لوگوں کے پاس نہیں آؤں گا ، اگر آپ لوگ وہ کام نہیں کرتے جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو ہدایت کی تھی کہ مہاجرین اور انصار اور لشکروں کے امیروں سے مشورہ لینا ہے ۔ حسن بصری کہتے ہیں کہ ان کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طرز عمل کا ذکر کیا گیا جو ان کے انتقال کے وقت تھا اور انتقال کے وقت جو انہیں اپنے پروردگار کا خوف تھا ، تو انہوں نے فرمایا : مؤمن اسی طرح ہوتا ہے وہ بھلائی اور شفقت کو جمع کرتا ہے ، اور منافق برائی اور غلط فہمی کو جمع کرتا ہے ، اللہ کی قسم ! پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں اور باقی رہ جانے والے لوگوں میں ، میں نے ایسا کوئی بندہ نہیں پایا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ اچھائی کرنے والا ہو ، ان سے زیادہ خوف زدہ رہنے والا ہو ، ان سے زیادہ شفقت کرنے والا ہو اور میں نے پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں اور باقی رہ جانے والے لوگوں میں جو بھی ایسا شخص پایا کہ جو برائی کرتا ہو ، تو ایسا شخص ہمیشہ زیادہ غلط فہمی کا شکار بھی ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14464
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : كَانَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عَبْدًا لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، وَكَانَ يَصْنَعُ الْأَرْحَاءَ ، وَكَانَ الْمُغِيرَةُ يَسْتَغِلُّهُ كُلَّ يَوْمٍ أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ ، فَلَقِيَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عُمَرَ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ أَثْقَلَ عَلَيَّ غَلَّتِي ، فَكَلِّمْهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنِّي ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : اتَّقِ اللَّهَ وَأَحْسِنْ إِلَى مَوْلَاكَ ، وَمِنْ نِيَّةِ عُمَرَ أَنْ يَلْقَى الْمُغِيرَةَ فَيُكَلِّمَهُ فَيُخَفِّفَ . فَغَضِبَ الْعَبْدُ وَقَالَ : وَسِعَ النَّاسَ كُلَّهُمْ عَدْلُهُ غَيْرِي ، فَأَضْمَرَ عَلَى قَتْلِهِ ، فَاصْطَنَعَ خِنْجَرًا لَهُ رَأْسَانِ وَشَحَذَهُ وَسَمَّهُ ، ثُمَّ أَتَى بِهِ الْهُرْمُزَانَ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَرَى هَذَا ؟ قَالَ : أَرَى أَنَّكَ لَا تَضْرِبُ بِهِ أَحَدًا إِلَّا قَتَلْتَهُ قَالَ : فَتَحَيَّنَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ فَجَاءَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى قَامَ وَرَاءَ عُمَرَ ، وَكَانَ عُمَرُ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَكَلَّمَ يَقُولُ : أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ كَمَا كَانَ يَقُولُ قَالَ : فَلَمَّا كَبَّرَ وَجَأَهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ فِي كَتِفِهِ وَوَجَأَهُ فِي خَاصِرَتِهِ ، فَسَقَطَ عُمَرُ وَطَعَنَ بِخِنْجَرِهِ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَهَلَكَ مِنْهُمْ سَبْعَةٌ وَفَرَقَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ ، وَجَعَلَ [ عُمَرُ ] يَذْهَبُ [ بِهِ ] إِلَى مَنْزِلِهِ ، وَضَاجَ النَّاسُ حَتَّى كَادَتْ تَطْلُعُ الشَّمْسُ ، فَنَادَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، الصَّلَاةَ ، الصَّلَاةَ ، الصَّلَاةَ . قَالَ : وَفَزِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ ، وَتَقَدَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَصَلَّى بِهِمْ بِأَقْصَرِ سُورَتَيْنِ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ تَوَجَّهُوا [ إِلَى عُمَرَ ] ، فَدَعَا بِشَرَابٍ لِيَنْظُرَ مَا قَدْرُ جُرْحِهِ ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ . فَلَمْ يَدْرِ أَنَبِيذٌ هُوَ أَمْ دَمٌ ، فَدَعَا بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ ، فَقَالُوا : لَا بَأْسَ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ : إِنْ يَكُنِ الْقَتْلُ بَأْسِي فَقَدْ قُتِلْتُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُثْنُونَ عَلَيْهِ ، يَقُولُونَ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ; كُنْتَ وَكُنْتَ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ وَيَجِيءُ قَوْمٌ آخَرُونَ فَيُثْنُونَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَمَا وَاللَّهِ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْهَا كَفَافًا لَا عَلَيَّ وَلَا لِي ، وَإِنَّ صُحْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ قَدْ ] سَلِمَتْ لِي . فَتَكَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ [ وَكَانَ عِنْدَ رَأْسِهِ _ وَكَانَ خَلِيطُهُ كَأَنَّهُ مِنْ أَهْلِهِ ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَتَكَلَّمَ _ عَبْدُ اللَّهِ بنُ عَبَّاسٍ ] فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا تَخْرُجُ مِنْهَا كَفَافًا ، لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَحِبْتَهُ خَيْرَ مَا صَحِبَهُ صَاحِبٌ كُنْتَ لَهُ ، وَكُنْتَ لَهُ ، وَكُنْتَ لَهُ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ، ثُمَّ صَحِبْتَ خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ وُلِّيتَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْتَ ، فَوُلِّيتَهَا بِخَيْرِ مَا وَلِيَهَا وَالٍ ، كُنْتَ تَفْعَلُ وَكُنْتَ تَفْعَلُ ، فَكَانَ عُمَرُ يَسْتَرِيحُ إِلَى حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ كَرِّرْ عَلَيَّ حَدِيثَكَ ، فَكَرَّرَ عَلَيْهِ . فَقَالَ عُمَرُ : أَمَا وَاللَّهِ عَلَى مَا يَقُولُونَ ، لَوْ أَنَّ لِي طِلَاعَ الْأَرْضِ ذَهَبًا لَافْتَدَيْتُ بِهِ الْيَوْمَ مِنْ هَوْلِ الْمَطْلَعِ ، قَدْ جَعَلْتُهَا شُورَى فِي سِتَّةٍ : عُثْمَانَ ، وَعَلِيٍّ ، وَطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَجَعَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَعَهُمْ مُشِيرًا [ وَلَيْسَ مِنْهُمْ ] ، وَأَجَّلَهُمْ ثَلَاثًا ، وَأَمَرَ صُهَيْبًا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ . . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام ابولؤلؤ تھا ، وہ چکی بنایا کرتا تھا ، سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ اس سے روزانہ چار درہم وصول کرتے تھے ، ایک مرتبہ ابولؤلؤ کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین ! سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ پر بوجھ ڈالا ہوا ہے ، وہ مجھ سے زیادہ وصولی کرتے ہیں ، آپ ان سے بات چیت کریں کہ وہ میرے خراج میں کمی کر دیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اپنے آقا کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نیت یہ تھی کہ وہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے ملیں گے ، تو وہ ان کے ساتھ بات چیت کریں گے کہ وہ اس کے خراج میں تخفیف کر دیں ، لیکن وہ غلام غصے میں آ گیا ، اس نے کہا: ان کا عدل میرے علاوہ باقی سب لوگوں کے لئے ہے ، اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا منصوبہ بنا لیا ، اس نے ایک خنجر تیار کیا ، جس کے دو سرے تھے اور اسے زہر میں ڈبویا ، پھر وہ اسے لے کے ہرمزان کے پاس آیا اور دریافت کیا : اس خنجر کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم اس کے ذریعے جس کو بھی ضرب لگاؤ گے ، اسے مار دو گے ، راوی کہتے ہیں : اس وقت ابولؤلؤ نے منصوبہ بنایا ۔ وہ صبح کی نماز میں آیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا ہو گیا ، جب نماز کھڑی ہو جاتی تھی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ کہتے تھے صفیں قائم کر لو ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تو ابولؤلؤ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کندھے پر وار کیا ، پھر اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پہلو پر وار کیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گر گئے ، اس شخص نے اس خنجر کے ذریعے تیرہ افراد کو زخمی کیا ، جن میں سے سات افراد انتقال کر گئے اور کچھ لوگ بچ گئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر لایا گیا ۔ لوگوں نے رونا شروع کر دیا ، قریب تھا کہ سورج طلوع ہو جاتا ، اسی دوران سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں پکار کر کہا: اے لوگو نماز نماز نماز ، تو لوگ پریشان ہو کر نماز کی طرف گئے ، تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ، انہوں نے قرآن کی دو چھوٹی سورتوں کو پڑھ کر نماز پڑھائی ، جب نماز مکمل ہوئی ، تو لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، انہوں نے مشروب منگوایا تاکہ اس بات کا جائزہ لیں کہ ان کے زخم کی مقدار کتنی ہے ، تو نبیذ لائی گئی ، انہوں نے اسے پیا تو وہ ان کے زخم سے باہر آ گئی ، لیکن یہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ نبیذ ہے یا خون ہے ، تو انہوں نے دودھ منگوایا ، اسے پیا تو وہ ان کے زخم سے باہر آ گیا ، لوگوں نے کہا: امیر المؤمنین ! آپ کو کچھ نہیں ہو گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر قتل ہونا پریشانی کی بات ہے ، تو میں قتل ہو گیا ہوں ، لوگوں نے ان کی تعریف بیان کرنا شروع کی اور یہ کہا: امیر المؤمنین ! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے آپ یہ تھے اور وہ تھے ، پھر لوگ واپس چلے جاتے اور دوسرے لوگ آ جاتے ، اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ جو کہہ رہے ہو ، اس کے باوجود اللہ کی قسم ! میری یہ خواہش ہے کہ میں اس معاملے میں برابری کی بنیاد پر چھوٹ جاؤں ، نہ میرے ذے کچھ ہو اور نہ مجھے کچھ ملے ، اللہ کے رسول کا ساتھی ہونا میرے لئے باقی رہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سرہانے موجود تھے ۔ انہوں نے بات چیت شروع کی ، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اتنے قریبی تھے جیسے ان کے گھر کے فرد ہوں ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما قرآن کے عالم تھے ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے گفتگو شروع کی اور یہ کہا: اللہ کی قسم ! آپ اس معاملے سے برابری کی بنیاد پر نہیں نکلیں گے ، کیونکہ آپ اللہ کے رسول کے ساتھ رہے ہیں ، اور اس سب سے بہتر طریقے کے ہمراہ ساتھ رہے ہیں کہ جس طریقے کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی بھی صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا ہو ، آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طرح رہے ہیں ، اس طرح رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے راضی تھے ، پھر آپ اللہ کے رسول کے خلیفہ کے ساتھ رہے ، پھر امیر المؤمنین آپ کو نگران بنایا گیا ، تو اللہ کی قسم ! آپ نے اس سب سے بہتر طریقے سے اپنے فرائض سرانجام دیئے ، جس طریقے سے کوئی بھی شخص انہیں انجام دے سکتا ہے ، آپ نے یہ کام کیا اور وہ کام کیا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی گفتگو سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کچھ اطمینان ہوا ، انہوں نے فرمایا : اے ابن عباس ! تم اپنی بات میرے سامنے دہراؤ ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کے سامنے بات دہرائی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں ، اس کے باوجود اللہ کی قسم ! میری یہ خواہش ہے کہ اگر میرے پاس روئے زمین جتنا سونا ہوتا ، تو قیامت کی ہولناکی سے بچنے کے لئے وہ میں آج فدیے کے طور پر دے دیتا ، میں حکومت کا معاملہ چھ افراد کی شوریٰ کے درمیان رکھتا ہوں ، عثمان ، علی ، طلحہ بن عبیداللہ ، زبیر بن عوام ، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ان لوگوں کے ساتھ مشیر مقرر کیا ، وہ ان میں سے ایک فرد نہیں تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تین دن کی مہلت دی اور سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ اس دوران لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14465
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : قَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ يَوْمَ قُتِلَ عُمَرُ : الْيَوْمَ وَهِيَ الْإِسْلَامُ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : جس دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، تو سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے فرمایا : آج اسلام کمزور ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14466
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : أَتَى عَبْدَ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَجُلَانِ وَأَنَا عِنْدُهُ ، فَقَالَا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ ؟ فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنَّ أَبَا حَكِيمٍ أَقْرَأَنِيهَا كَذَا وَكَذَا ، وَقَرَأَ الْآخَرُ ، فَقَالَ : مَنْ أَقْرَأَكَهَا ؟ فَقَالَ : عُمَرُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : اقْرَأْ كَمَا أَقْرَأَكَ عُمَرُ ، ثُمَّ بَكَى عَبْدُ اللَّهِ حَتَّى رَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَحَدَّرَ فِي الْحَصَى ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ عُمَرَ كَانَ حِصْنًا حَصِينًا عَلَى الْإِسْلَامِ ، يَدْخُلُ النَّاسُ فِيهِ وَلَا يَخْرُجُونَ مِنْهُ ، وَإِنَّ الْحِصْنَ أَصْبَحَ قَدِ انْثَلَمَ ; فَالنَّاسُ يَخْرُجُونَ مِنْهُ وَلَا يَدْخُلُونَ . . ¤
محمد محی الدین
زید بن وہب بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس دو افراد آئے ، میں اس وقت ان کے پاس موجود تھا ، ان دونوں نے کہا: اے ابوعبد الرحمن آپ اس آیت کو کیسے پڑھتے ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے وہ آیت پڑھی ، تو ایک شخص نے کہا: سیدنا ابوحکیم رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ آیت اس اس طرح پڑھائی ہے ، پھر دوسرے شخص نے آیت پڑھی ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تمہیں یہ آیت کس نے سکھائی ہے ، تو اس نے جواب دیا : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اسے اسی طرح پڑھو جس طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ تمہیں سکھائی ہے ، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ رونے لگے ، یہاں تک کہ ہم نے دیکھا کہ ان کے آنسو کنکریوں پر گر رہے ہیں ، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسلام کے لئے ایک مضبوط قلعہ تھے ، جس میں لوگ داخل ہوتے تھے ، لیکن نکلتے نہیں تھے ، اب وہ قلعہ ٹوٹ چکا ہے ، لوگ اس میں سے نکل جاتے ہیں ، اور داخل نہیں ہوتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 14467
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَا أَظُنُّ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِ حُزْنٌ يَوْمَ أُصِيبَ عُمَرُ إِلَّا أَهْلَ بَيْتِ سُوءٍ ; إِنَّ عَمَرَ كَانَ أَعْلَمَنَا بِاللَّهِ ، وَأَقْرَأَنَا لِكِتَابِ اللَّهِ ، وَأَفْقَهَنَا فِي دِينِ اللَّهِ ، اقْرَأْهَا فَوَاللَّهِ ( كَمَا أَقْرَأَكَهَا عُمَرُ ، فَوَاللَّهِ لَهِيَ ) أَبْيَنُ مِنْ طَرِيقِ السَّيْلَحِينِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا اس وقت مسلمانوں کے ہر ایک گھرانے پر غم داخل ہو گیا ، البتہ برے گھرانے والے لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اللہ کے بارے میں ہم سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے ، اللہ کی کتاب کے سب سے زیادہ عالم تھے ، اللہ کے دین کے سب سے بڑے فقیہ تھے ، تو تم اس آیت کو اس طرح پڑھو ، اللہ کی قسم ! جس طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ تمہیں پڑھائی ہے ، اللہ کی قسم ! یہ سیلحین کے راستے سے زیادہ واضح ہے ۔ “
حدیث نمبر: 14468
وَفِي رِوَايَةٍ : وَكَانَ - يَعْنِي عُمَرَ - إِذَا سَلَكَ طَرِيقًا وَجَدْنَاهُ سَهْلًا ، فَإِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّهَلَا بِعُمَرَ ، كَانَ فَضْلٌ مَا بَيْنَ الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ ، وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَخْدِمُ مِثْلَهُ حَتَّى أَمُوتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ( سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ” سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب کسی راستے پر چلتے تھے ، تو ہم اسے ہموار پاتے تھے ، جب نیک لوگوں کا ذکر ہو گا ، تو اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اہتمام کے ساتھ ذکر ہو گا ، وہ زیادہ ہونے اور کمی کے دوران ، فصل ( یعنی حد فاصل ) تھے ، اللہ کی قسم ! میری یہ خواہش ہے کہ میں مرتے دم تک ان جیسے کی خدمت کرتا رہتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14469
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَيْضًا قَالَ : إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّهَلَا بِعُمَرَ ، إِنَّ إِسْلَامَ عُمَرَ كَانَ نَصْرًا ، وَإِنَّ إِمَارَتَهُ كَانَتْ فَتْحًا ، وَايْمُ اللَّهِ مَا أَعْلَمُ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدًا إِلَّا وَجَدَ فَقْدَ عُمَرَ حَتَّى الْعِضَاةِ ، وَايْمُ اللَّهِ إِنِّي لَأَحْسَبُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ ، وَايْمُ اللَّهِ إِنِّي لَأَحْسَبُ الشَّيْطَانُ يَفْرَقُ مِنْهُ أَنْ يُحْدِثَ فِي الْإِسْلَامِ حَدَثًا فَيَرُدَّ عَلَيْهِ عُمَرُ ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ كَلْبًا يُحِبُّ عُمَرَ لَأَحْبَبْتُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جب نیک لوگوں کا ذکر ہو گا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی نمایاں طور پر ہو گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا مدد کا باعث تھا ، ان کی حکومت فتح کا باعث تھی ، اللہ کی قسم ! مجھے یہ پتہ ہے کہ روئے زمین پر موجود ہر چیز نے ، یہاں تک کہ کانٹے دار درختوں نے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی غیر موجودگی کو محسوس کیا ، اللہ کی قسم ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک فرشتہ موجود تھا ، جو انہیں سیدھی راہ پر رکھتا تھا اور ان کی رہنمائی کرتا تھا ، اللہ کی قسم ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ شیطان ان سے ڈر کے بھاگ جاتا تھا کہ اگر وہ اسلام میں کوئی نئی چیز پیدا کرے گا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے ختم کر دیں گے ، اللہ کی قسم ! اگر مجھے کسی کتے بارے میں پتہ ہو کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے ، تو میں اس کتے سے بھی محبت رکھوں گا ۔ “
حدیث نمبر: 14470
وَفِي رِوَايَةٍ : لَقَدْ أَحْبَبْتُ عُمَرَ حَتَّى لَقَدْ خِفْتُ اللَّهَ ، وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ خَادِمًا لِعُمَرَ حَتَّى أَمُوتَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ” میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہوں ، یہاں تک کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے ڈر لگتا ہے ، میری یہ خواہش ہے کہ میں مرتے دم تک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خدمت گزار رہتا ۔ “
حدیث نمبر: 14471
وَفِي رِوَايَةٍ : لَوْ أَنَّ عُمَرَ أَحَبَّ كَلْبًا كَانَ أَحَبَّ الْكِلَابِ إِلَيَّ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ( سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ” اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کسی کتے سے محبت رکھتے ہوتے ، تو وہ میرے نزدیک کتوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوتا ۔ “
حدیث نمبر: 14472
وَفِي رِوَايَةٍ : لَقَدْ خَشِيتُ اللَّهَ فِي حُبِّي عُمَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ ، وَفِي بَعْضِهَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَبَعْضُهَا مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ ، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ” سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے محبت کی وجہ سے مجھے اللہ تعالیٰ سے ڈر لگتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے بعض کی اسناد میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، ان میں سے بعض روایات سند کے اعتبار سے منقطع ہیں ، اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے بعض کی اسناد میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، ان میں سے بعض روایات سند کے اعتبار سے منقطع ہیں ، اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14473
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ : فِي الْجَنَّةِ . قَالَ : تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ فَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ : ذَاكَ الْأَوَّاهُ عِنْدَ كُلِّ خَيْرٍ يُبْتَغَى . قَالَ : تُوُفِّيَ عُمَرُ فَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ : إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّهَلَا بِعُمَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوا تو وہ کہاں ہوں گے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جنت میں انہوں نے دریافت کیا : جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو وہ کہاں ہوں گے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : وہ ایک مہربان ( یا رقیق القلب ) شخص تھے ، جو ہر بھلائی کے پاس موجود ہوتے تھے ، جس ( بھلائی ) کو تلاش کیا جاتا تھا ( یعنی اس بھلائی کو کرنے کی کوشش کی جاتی تھی ) انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے ، وہ کہاں ہوں گے ؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نیک لوگوں کا ذکر ہو گا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا بطور خاص ذکر ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14474
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أَرْسَلُوا إِلَى طَبِيبٍ ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَقَاهُ لَبَنًا ، فَخَرَجَ اللَّبَنُ مِنَ الطَّعْنَةِ الَّتِي تَحْتَ السُّرَّةِ ، فَقَالَ لَهُ الطَّبِيبُ : اعْهَدْ عَهْدَكَ فَلَا أُرَاكَ تُمْسِي ، فَقَالَ : صَدَقْتَنِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا ، تو لوگوں نے طبیب کو بلوایا ، انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا ، اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دودھ پلایا ، تو وہ دودھ ان کے زخم میں سے باہر نکل آیا ، جو ناف کے نیچے زخم موجود تھا ، تو طبیب نے ان سے کہا: آپ نے جو تلقین کرنی ہے کر دیں ، میں نہیں سمجھتا کہ آپ شام دیکھ پائیں گے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے میرے ساتھ سچ بیانی کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14475
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : شَهِدْتُ مَوْتَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَئِذٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن یسار بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے انتقال کے وقت موجود تھا ، اس دن سورج گرہن ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14476
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ عُمَرُ مَحَا الزُّبَيْرُ اسْمَهُ مِنَ الدِّيوَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے دیوان میں سے اپنا نام مٹا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14477
وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : وُلِّيَ عُمَرُ عَشْرَ سِنِينَ ، ثُمَّ تُوُفِّيَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دس سال تک حکمران رہے تھے پھر ان کا انتقال ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14478
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مَاتَ وَهُوَ ابْنُ سِتٍّ وَسِتِّينَ سَنَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر چھیاسٹھ برس تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14479
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ : قُتِلَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ إِحْدَى وَسِتِّينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اکسٹھ برس کی عمر میں شہید کیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14480
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ : مَاتَ عُمَرُ وَهُوَ عَلَى رَأْسِ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ . ¤
محمد محی الدین
ابن شہاب بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر پچپن سال تھی ۔
حدیث نمبر: 14481
وَعَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ عُمَرَ قُبِضَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر پچپن برس تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14482
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : تُوُفِّيَ عُمَرُ ، وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ ، وَقَالَ : أَسْرَعَ إِلَيَّ الشَّيْبُ مِنْ قَبْلِ أَخْوَالِي بَنِي الْمُغِيرَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر پچپن سال تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : میری طرف سفید بال تیزی سے اس وجہ سے آئے ہیں کہ یہ میرے ننھیال بنو مغیرہ کی طرف سے آئی ہوئی چیز ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14483
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : دُفِنَ عُمَرُ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ لِثَلَاثٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بدھ کے دن دفن کیا گیا ، جب سن 23 ہجری کے ذوالحج کے ختم ہونے میں تین دن باقی رہ گئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14484
وَعَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرُ مَصْدَرَ الْحَاجِّ ، وَذَلِكَ فِي سَنَةِ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
لیث بن سعد بیان کرتے ہیں : امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس وقت شہید کیا گیا جب حاجیوں کی واپسی کا وقت ہوتا ہے ، اور یہ سن 23 ہجری کی بات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14485
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ : تُوُفِّيَ عُمَرُ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ ، وَكَانَتْ خِلَافَتُهُ عَشْرَ سِنِينَ . ¤
محمد محی الدین
ابوبکر بن ابوشیبہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال سن 23 ہجری میں ہوا تھا ، اور ان کی خلافت دس سال رہی تھی ۔
حدیث نمبر: 14486
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : يُقَالُ : قُتِلَ عُمَرُ ، وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ، وَالثَّبْتُ أَنَّهُ كَانَ ابْنَ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن علی بیان کرتے ہیں : یہ بات کہی جاتی ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا اس وقت ان کی عمر تریسٹھ سال تھی ، تاہم مستند بات یہ ہے کہ اس وقت ان کی عمر اٹھاون سال تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 14487
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : اسْتُخْلِفَ عُمَرُ فِي رَجَبٍ سَنَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ ، وَقُتِلَ فِي عَقِبِ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ ، فَأَقَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ بَعْدَ الطَّعْنَةِ ، وَمَاتَ فِي آخِرِ ذِي الْحِجَّةِ ، وَصَلَّى عَلَيْهِ صُهَيْبٌ ، وَوَلِيَ غَسْلَهَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَكَفَّنَهُ فِي خَمْسَةِ أَثْوَابٍ ، وَدُفِنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَطُعِنَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ لِتِسْعٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ . وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ : مَاتَ مِنْ يَوْمِهِ ، وَكَانَ سِنُّهُ يَوْمَ تُوُفِّيَ فِيمَا سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَذْكُرُ : أَنَّهُ بَلَغَ سِنَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ . وَبَعْضُ النَّاسِ يَقُولُ : لِتِسْعٍ وَخَمْسِينَ . [ وَبَعْضُهُمْ يَقُولُ : ثَلَاثٍ وَخَمْسِينَ ، وَخَمْسٍ وَخَمْسِينَ ] وَكَانَتْ خِلَافَتُهُ عَشْرَ سِنِينَ وَأَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَأَيَّامًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رجب کے مہینے میں تیرہ ہجری میں خلیفہ مقرر ہوئے تھے اور انہیں ذوالحج کے آخری حصے میں سن 23 ہجری میں شہید کیا گیا ، وہ زخمی ہونے کے بعد تین دن تک زندہ رہے تھے اور ذوالحج کے آخر میں انتقال کر گئے تھے ۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ، ان کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں غسل دیا تھا اور انہیں پانچ کپڑوں میں کفن دیا گیا ، اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن کر دیا گیا ۔ وہ بدھ کے دن زخمی ہوئے تھے جب ذوالج ختم ہونے میں نو دن باقی رہ گئے تھے ۔ بعض لوگوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ ان کا انتقال اسی دن ہو گیا تھا ( جب وہ زخمی ہوئے تھے ) اور انتقال کے وقت ان کی عمر یہ تھی ، جو میں نے امام مالک کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے : انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ ان کی عمر بھی اتنی ہی تھی ، جتنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تھی ، یعنی تریسٹھ برس تھی ۔ بعض حضرات کا یہ کہنا ہے کہ انسٹھ برس تھی ، بعض کا یہ کہنا ہے کہ ترپن برس تھی یا پچپن برس تھی ، بعض کا یہ کہنا ہے کہ چون برس تھی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت دس سال چار ماہ اور کچھ دن رہی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 14488
وَعَنْ مَعْرُوفِ بْنِ أَبِي مَعْرُوفٍ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ عُمَرُ سَمِعْتُ صَوْتًا : لِيَبْكِ عَلَى الْإِسْلَامِ مَنْ كَانَ بَاكِيًا فَقَدْ أَوْشَكُوا هَلْكَى وَمَا قَدِمَ الْعَهْدُ وَأَدْبَرَتِ الدُّنْيَا وَأَدْبَرَ خَيْرُهَا وَقَدْ مَلَّهَا مَنْ كَانَ يُوقِنُ بِالْوَعْدِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
معروف بن ابومعروف بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں نے کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” رونے والے کو اسلام پر رونا چاہیے کیونکہ عنقریب وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ، اور ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرا کہ دنیا رخصت ہو گئی اور اس کی بھلائی رخصت ہو گئی اور وہ شخص دنیا سے اکتا گیا جو وعد ( یعنی آخرت ) پر یقین رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔