حدیث نمبر: 14467
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَا أَظُنُّ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِ حُزْنٌ يَوْمَ أُصِيبَ عُمَرُ إِلَّا أَهْلَ بَيْتِ سُوءٍ ; إِنَّ عَمَرَ كَانَ أَعْلَمَنَا بِاللَّهِ ، وَأَقْرَأَنَا لِكِتَابِ اللَّهِ ، وَأَفْقَهَنَا فِي دِينِ اللَّهِ ، اقْرَأْهَا فَوَاللَّهِ ( كَمَا أَقْرَأَكَهَا عُمَرُ ، فَوَاللَّهِ لَهِيَ ) أَبْيَنُ مِنْ طَرِيقِ السَّيْلَحِينِ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا اس وقت مسلمانوں کے ہر ایک گھرانے پر غم داخل ہو گیا ، البتہ برے گھرانے والے لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اللہ کے بارے میں ہم سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے ، اللہ کی کتاب کے سب سے زیادہ عالم تھے ، اللہ کے دین کے سب سے بڑے فقیہ تھے ، تو تم اس آیت کو اس طرح پڑھو ، اللہ کی قسم ! جس طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ تمہیں پڑھائی ہے ، اللہ کی قسم ! یہ سیلحین کے راستے سے زیادہ واضح ہے ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14467
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8803)»