مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ وَفَاةِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَيْضًا قَالَ : إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّهَلَا بِعُمَرَ ، إِنَّ إِسْلَامَ عُمَرَ كَانَ نَصْرًا ، وَإِنَّ إِمَارَتَهُ كَانَتْ فَتْحًا ، وَايْمُ اللَّهِ مَا أَعْلَمُ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدًا إِلَّا وَجَدَ فَقْدَ عُمَرَ حَتَّى الْعِضَاةِ ، وَايْمُ اللَّهِ إِنِّي لَأَحْسَبُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ ، وَايْمُ اللَّهِ إِنِّي لَأَحْسَبُ الشَّيْطَانُ يَفْرَقُ مِنْهُ أَنْ يُحْدِثَ فِي الْإِسْلَامِ حَدَثًا فَيَرُدَّ عَلَيْهِ عُمَرُ ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ كَلْبًا يُحِبُّ عُمَرَ لَأَحْبَبْتُهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جب نیک لوگوں کا ذکر ہو گا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی نمایاں طور پر ہو گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا مدد کا باعث تھا ، ان کی حکومت فتح کا باعث تھی ، اللہ کی قسم ! مجھے یہ پتہ ہے کہ روئے زمین پر موجود ہر چیز نے ، یہاں تک کہ کانٹے دار درختوں نے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی غیر موجودگی کو محسوس کیا ، اللہ کی قسم ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک فرشتہ موجود تھا ، جو انہیں سیدھی راہ پر رکھتا تھا اور ان کی رہنمائی کرتا تھا ، اللہ کی قسم ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ شیطان ان سے ڈر کے بھاگ جاتا تھا کہ اگر وہ اسلام میں کوئی نئی چیز پیدا کرے گا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے ختم کر دیں گے ، اللہ کی قسم ! اگر مجھے کسی کتے بارے میں پتہ ہو کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے ، تو میں اس کتے سے بھی محبت رکھوں گا ۔ “