مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ وَفَاةِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : أَتَى عَبْدَ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَجُلَانِ وَأَنَا عِنْدُهُ ، فَقَالَا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ ؟ فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنَّ أَبَا حَكِيمٍ أَقْرَأَنِيهَا كَذَا وَكَذَا ، وَقَرَأَ الْآخَرُ ، فَقَالَ : مَنْ أَقْرَأَكَهَا ؟ فَقَالَ : عُمَرُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : اقْرَأْ كَمَا أَقْرَأَكَ عُمَرُ ، ثُمَّ بَكَى عَبْدُ اللَّهِ حَتَّى رَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَحَدَّرَ فِي الْحَصَى ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ عُمَرَ كَانَ حِصْنًا حَصِينًا عَلَى الْإِسْلَامِ ، يَدْخُلُ النَّاسُ فِيهِ وَلَا يَخْرُجُونَ مِنْهُ ، وَإِنَّ الْحِصْنَ أَصْبَحَ قَدِ انْثَلَمَ ; فَالنَّاسُ يَخْرُجُونَ مِنْهُ وَلَا يَدْخُلُونَ . . ¤زید بن وہب بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس دو افراد آئے ، میں اس وقت ان کے پاس موجود تھا ، ان دونوں نے کہا: اے ابوعبد الرحمن آپ اس آیت کو کیسے پڑھتے ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے وہ آیت پڑھی ، تو ایک شخص نے کہا: سیدنا ابوحکیم رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ آیت اس اس طرح پڑھائی ہے ، پھر دوسرے شخص نے آیت پڑھی ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تمہیں یہ آیت کس نے سکھائی ہے ، تو اس نے جواب دیا : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اسے اسی طرح پڑھو جس طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ تمہیں سکھائی ہے ، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ رونے لگے ، یہاں تک کہ ہم نے دیکھا کہ ان کے آنسو کنکریوں پر گر رہے ہیں ، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسلام کے لئے ایک مضبوط قلعہ تھے ، جس میں لوگ داخل ہوتے تھے ، لیکن نکلتے نہیں تھے ، اب وہ قلعہ ٹوٹ چکا ہے ، لوگ اس میں سے نکل جاتے ہیں ، اور داخل نہیں ہوتے ہیں ۔