مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ بِشَارَتِهِ بِالشَّهَادَةِ وَالْجَنَّةِ . باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہادت اور جنت کی بشارت ملنا
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ أَبْيَضُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عُمَرُ أَجَدِيدٌ قَمِيصُكَ هَذَا أَمْ غَسِيلٌ ؟ " . فَقَالَ : غَسِيلٌ . فَقَالَ : " الْبَسْ جَدِيدًا ، وَعِشْ حَمِيدًا ، وَمُتْ شَهِيدًا ، وَيُعْطِيكَ اللَّهُ قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، ان کے جسم پر سفید قمیص تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : اے عمر ! تمہاری یہ قمیص نئی ہے یا دھلی ہوئی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : دھلی ہوئی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نیا لباس پہنو ، قابل تعریف زندگی بسر کرو ، شہید ہونے طور پر مرنا اور اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا اور آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک کے ذریعے ڈھانپ دے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر بن زید جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔