❮
❯
حدیث نمبر: 14455
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عُمَرَ ثَوْبًا أَبْيَضَ ، فَقَالَ : " أَجَدِيدٌ ثَوْبُكَ أَمْ غَسِيلٌ ؟ " . قَالَ : فَلَا أَدْرِي مَا رَدَّ عَلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْبَسْ جَدِيدًا ، وَعِشْ حَمِيدًا ، وَمُتْ شَهِيدًا ، وَيَرْزُقُكَ اللَّهُ قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " .
قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَةَ بِاخْتِصَارِ قُرَّةِ الْعَيْنِ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ : " وَيَرْزُقُكَ اللَّهُ قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . قَالَ : وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ .
وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سفید لباس پہنے ہوئے دیکھا ، تو دریافت کیا : تمہارا لباس نیا ہے یا دھلا ہوا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم نیا لباس پہنو ، قابل تعریف زندگی بسر کرو اور شہید ہونے کے طور پر مرنا اور اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا اور آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کرے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے لیکن اس میں یہ اختصار کے ساتھ منقول ہے ، اور آنکھوں کی ٹھنڈک والا حصہ مذکور نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے : اس میں اس روایت کے ان الفاظ ” اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا اور آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کرے ۔ “ اس کے بعد یہ الفاظ ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ کو بھی ( اللہ تعالیٰ یہ چیز نصیب کرے ) ۔ “ ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14455
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (5620) ، أخرجه سنن ابن ماجه برقم: 3558، وأخرجه مسند أحمد برقم: 5588، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 20382»