حدیث نمبر: 14457
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ " . قَالَ : " قُلْتُ : لِمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ - وَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِي - قَالَ : لِعُمَرَ " . قَالَ : " ثُمَّ سَرَتْ سَاعَةٌ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ خَيْرٍ مِنَ الْقَصْرِ الْأَوَّلِ " . قَالَ : " قُلْتُ : لِمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ - وَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِي - قَالَ : لِعُمَرَ ، وَإِنَّ فِيهِ لَمِنَ الْحُورِ الْعِينِ - يَا أَبَا حَفْصٍ - وَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَدْخُلَهُ إِلَّا غَيْرَتُكَ " . قَالَ : فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَا عُمَرَ ، وَقَالَ : أَمَّا عَلَيْكَ فَلَمْ أَكُنْ أَغَارُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جنت میں چل رہا تھا ، سامنے ایک محل آیا ، میں نے دریافت کیا : جبرائیل ! یہ کس کا ہے ؟ مجھے یہ توقع تھی کہ وہ میرا ہو گا ، تو جبرائیل نے بتایا : یہ عمر کا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : پھر میں کچھ دیر چلتا رہا ، پھر ایک اور محل آیا جو پہلے والے محل سے زیادہ بہتر تھا ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کس کا ہے ؟ مجھے یہ امید تھی کہ وہ میرا ہو گا ، جبرائیل نے بتایا : یہ عمر کا ہے ، اس محل میں حورعین سے تعلق رکھنے والی حوریں موجود تھیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا : ) اے ابوحفص ! میں اس محل میں اس وجہ سے داخل نہیں ہوا کہ تمہارے مزاج میں تیزی پائی جاتی ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور انہوں نے عرض کی : میں آپ کی وجہ سے مزاج کی تیزی نہیں دکھا سکتا ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14457
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (269/3)»