کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہادت اور جنت کی بشارت ملنا
حدیث نمبر: 14454
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي حَائِطٍ ، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَالشَّهَادَةِ " . ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَبِالشَّهَادَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ صَحِيحَةٌ فِيمَا وَرَدَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَغَيْرِهِمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں موجود تھے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خادم سے ) فرمایا : تم اسے اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خادم سے ) فرمایا : تم اسے اجازت دو اور جنت اور شہادت کی خوشخبری دو ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے اجازت دو اور اسے جنت اور شہادت کی خوشخبری دو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عمر بن ابان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق روایات کے باب میں اس حدیث کے مستند طرق پہلے گزر چکے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14454
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13254)»
حدیث نمبر: 14455
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عُمَرَ ثَوْبًا أَبْيَضَ ، فَقَالَ : " أَجَدِيدٌ ثَوْبُكَ أَمْ غَسِيلٌ ؟ " . قَالَ : فَلَا أَدْرِي مَا رَدَّ عَلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْبَسْ جَدِيدًا ، وَعِشْ حَمِيدًا ، وَمُتْ شَهِيدًا ، وَيَرْزُقُكَ اللَّهُ قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَةَ بِاخْتِصَارِ قُرَّةِ الْعَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ : " وَيَرْزُقُكَ اللَّهُ قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . قَالَ : وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سفید لباس پہنے ہوئے دیکھا ، تو دریافت کیا : تمہارا لباس نیا ہے یا دھلا ہوا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم نیا لباس پہنو ، قابل تعریف زندگی بسر کرو اور شہید ہونے کے طور پر مرنا“ ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا اور آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کرے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے لیکن اس میں یہ اختصار کے ساتھ منقول ہے ، اور صرف آنکھوں کی ٹھنڈک والا حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے : اس میں اس روایت کے ان الفاظ ” اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا اور آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کرے ۔ “ اس کے بعد یہ الفاظ ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ کو بھی ( اللہ تعالیٰ یہ چیز نصیب کرے ) ۔ “ ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14455
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (5620)»
حدیث نمبر: 14456
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ أَبْيَضُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عُمَرُ أَجَدِيدٌ قَمِيصُكَ هَذَا أَمْ غَسِيلٌ ؟ " . فَقَالَ : غَسِيلٌ . فَقَالَ : " الْبَسْ جَدِيدًا ، وَعِشْ حَمِيدًا ، وَمُتْ شَهِيدًا ، وَيُعْطِيكَ اللَّهُ قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، ان کے جسم پر سفید قمیص تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : اے عمر ! تمہاری یہ قمیص نئی ہے یا دھلی ہوئی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : دھلی ہوئی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نیا لباس پہنو ، قابل تعریف زندگی بسر کرو ، شہید ہونے طور پر مرنا اور اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا اور آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک کے ذریعے ڈھانپ دے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر بن زید جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14456
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2503)»
حدیث نمبر: 14457
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ " . قَالَ : " قُلْتُ : لِمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ - وَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِي - قَالَ : لِعُمَرَ " . قَالَ : " ثُمَّ سَرَتْ سَاعَةٌ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ خَيْرٍ مِنَ الْقَصْرِ الْأَوَّلِ " . قَالَ : " قُلْتُ : لِمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ - وَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِي - قَالَ : لِعُمَرَ ، وَإِنَّ فِيهِ لَمِنَ الْحُورِ الْعِينِ - يَا أَبَا حَفْصٍ - وَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَدْخُلَهُ إِلَّا غَيْرَتُكَ " . قَالَ : فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَا عُمَرَ ، وَقَالَ : أَمَّا عَلَيْكَ فَلَمْ أَكُنْ أَغَارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جنت میں چل رہا تھا ، سامنے ایک محل آیا ، میں نے دریافت کیا : جبرائیل ! یہ کس کا ہے ؟ مجھے یہ توقع تھی کہ وہ میرا ہو گا ، تو جبرائیل نے بتایا : یہ عمر کا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : پھر میں کچھ دیر چلتا رہا ، پھر ایک اور محل آیا جو پہلے والے محل سے زیادہ بہتر تھا ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کس کا ہے ؟ مجھے یہ امید تھی کہ وہ میرا ہو گا ، جبرائیل نے بتایا : یہ عمر کا ہے ، اس محل میں حورعین سے تعلق رکھنے والی حوریں موجود تھیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا : ) اے ابوحفص ! میں اس محل میں اس وجہ سے داخل نہیں ہوا کہ تمہارے مزاج میں تیزی پائی جاتی ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور انہوں نے عرض کی : میں آپ کی وجہ سے مزاج کی تیزی نہیں دکھا سکتا ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14457
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (269/3)»
حدیث نمبر: 14458
وَفِي رِوَايَةٍ : " فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” سونے سے بنا ہو محل آیا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14458
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (107/3)»
حدیث نمبر: 14459
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " عُمَرُ غَيُورٌ ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنَّا " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَزِيَادَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَوَاهَا عَنْ شَيْخِهِ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَذَكَرَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ أَنَّهُ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس کی مانند روایت منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” عمر غیور ہے میں اس سے زیادہ غیور ہوں اور اللہ تعالیٰ ہم سے زیادہ غیور ہے ۔ “ امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں اضافی کلمات انہوں نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کیے ہیں ، اور وہ ضعیف راوی ہے ، ابن دقیق العید نے یہ بات ذکر کی ہے کہ اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14459
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14460
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : إِنْ كَانَ عُمَرُ لَمِنْ أِهْلِ الْجَنَّةِ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ مَا رَأَى فِي يَقَظَتِهِ أَوْ نَوْمِهُ فَهُوَ حَقٌّ ، وَإِنَّهُ قَالَ : " بَيْنَا أَنَا فِي الْجَنَّةِ إِذْ رَأَيْتُ فِيهَا دَارًا ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذِهِ ؟ فَقَالُوا : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اہل جنت میں سے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو بھی چیز بیداری کے عالم میں دیکھتے تھے یا نیند کے دوران دیکھتے تھے ، وہ حق ہوتی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” میں نے دیکھا کہ میں جنت میں ہوں ۔ میں نے اس میں ایک گھر دیکھا ، میں نے دریافت کیا : یہ کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے بتایا : یہ عمر بن خطاب کا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14460
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2460)»