مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ بِشَارَتِهِ بِالشَّهَادَةِ وَالْجَنَّةِ . باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہادت اور جنت کی بشارت ملنا
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي حَائِطٍ ، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَالشَّهَادَةِ " . ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَبِالشَّهَادَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ صَحِيحَةٌ فِيمَا وَرَدَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَغَيْرِهِمَا . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں موجود تھے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خادم سے ) فرمایا : تم اسے اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خادم سے ) فرمایا : تم اسے اجازت دو اور جنت اور شہادت کی خوشخبری دو ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے اجازت دو اور اسے جنت اور شہادت کی خوشخبری دو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عمر بن ابان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق روایات کے باب میں اس حدیث کے مستند طرق پہلے گزر چکے ہیں ۔