حدیث نمبر: 14443
وَعَنْ سُدَيْسَةَ - مَوْلَاةِ حَفْصَةَ - عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ وَقَدْ نَذَرْتُ أَنْ أَزْفِنَ بِالدُّفِّ إِنْ قَدِمَ مِنْ مَكَّةَ : فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ ، إِذِ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ ، فَانْطَلَقْتُ بِالدُّفِّ إِلَى جَانِبِ الْبَيْتِ فَغَطَّيْتُهُ بِكِسَاءٍ ، فَقُلْتُ : أَيْ نَبِيَّ اللَّهِ ، أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تُهَابَ قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَلْقَى عُمَرَ مُنْذُ أَسْلَمَ إِلَّا خَرَّ لِوَجْهِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین

سیده سدیسہ رضی اللہ عنہا جو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی کنیز ہیں ، انہوں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے روایت نقل کی ہے ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے یہ نذر مانی کہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے تشریف لے آئے ، تو میں دف بجا کر رقص کروں گی ، ابھی میں وف بجا رہی تھی کہ اسی دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، میں نے دف لی اور اسے گھر کے ایک کونے میں جا کے چادر کے ذریعے ڈھانپ کے رکھ دیا ۔ میں نے ( سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے یا شاید سیدہ سدیسہ رضی اللہ عنہا ) نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ آپ سے ڈرا جائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب سے عمر نے اسلام قبول کیا ہے ، شیطان جب بھی اس کے سامنے آتا ہے وہ ( یعنی شیطان ) چہرے کے بل گر جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14443
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف