حدیث نمبر: 14431
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ قَالَ لَهُ أَبُوهُ : أَيْ بُنَيَّ ، اطْلُبْ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَوْبًا مِنْ ثِيَابِهِ ، فَكَفِّنِّي فِيهِ ، وَمُرْهُ يُصَلِّي عَلَيَّ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَرَفْتَ شَرَفَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ، وَإِنَّهُ أَمَرَنِي أَنْ أَطْلُبَ إِلَيْكَ ثَوْبًا نُكَفِّنُهُ فِيهِ ، وَأَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ ، فَأَعْطَاهُ ثَوْبًا مِنْ ثِيَابِهِ ، وَأَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَرَفْتَ عَبْدَ اللَّهِ وَنِفَاقَهُ ، وَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصْلِيَ عَلَيْهِ . قَالَ : " وَأَيْنَ ؟ " . قَالَ : إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَإِنِّي سَأَزِيدُهُ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا . وَأَنْزَلَ اللَّهُ : سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ . ¤ قَالَ : وَدَخَلَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَطَالَ الْجُلُوسُ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا لِكَيْ يَتْبَعَهُ فَلَمْ يَفْعَلْ ، فَدَخَلَ عُمَرُ فَرَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَقْعَدِهِ ، فَقَالَ : لَعَلَّكَ آذَيْتَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَفَطِنَ الرَّجُلُ فَقَامَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ قُمْتُ ثَلَاثًا لِكَيْ تَتْبَعَنِي فَلَمْ تَفْعَلْ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اتَّخَذْتَ حِجَابًا ; فَإِنَّ نِسَاءَكَ لَسْنَ كَسَائِرِ النِّسَاءِ ، وَهُوَ أَطْهَرُ لِقُلُوبِهِنَّ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ : ( يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ ) الْآيَةَ . فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ . ¤ قَالَ : وَاسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي الْأُسَارَى ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَحْيِي قَوْمَكَ وَخُذْ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ ، فَاسْتَعِنْ بِهِ . وَقَالَ عُمَرُ : اقْتُلْهُمْ ، فَقَالَ : " لَوِ اجْتَمَعْتُمَا مَا عَصَيْنَاكُمَا " . فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ . قَالَ : وَنَزَلَتْ : ( وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ ) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . فَقَالَ عُمَرُ : تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ . فَأُنْزِلَتْ : فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : " لَوِ اجْتَمَعْتُمَا مَا عَصَيْتُكُمَا " . وَفِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، وَهُوَ لَيِّنٌ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن عبداللہ بن اُبی کے والد ( یعنی عبداللہ بن ابی ) نے ان سے کہا: اے میرے بیٹے تم اللہ کے رسول سے میرے لئے ان کے کپڑوں میں سے کوئی کپڑا مانگ لو اور مجھے اس کپڑے میں کفن دینا اور ان سے یہ بھی درخواست کرنا کہ وہ میری نماز جنازہ پڑھائیں ، تو عبداللہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ عبداللہ بن ابی کی نمایاں حیثیت سے واقف ہیں ، انہوں نے مجھ سے یہ کہا: ہے کہ میں آپ سے کپڑا مانگوں ، جس میں ہم انہیں کفن دیں اور آپ ان کی نماز جنازہ بھی ادا کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑوں میں سے ایک کپڑا انہیں دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کا ارادہ کیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ عبداللہ اور اس کی منافقت سے واقف ہیں ، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ انہوں نے عرض کی : ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” اگر تم ان لوگوں کے لئے ستر مرتبہ دعائے مغفرت کرو ، تو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں کرے گا ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس سے زیادہ مرتبہ کر لوں گا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” جب ان میں سے کوئی ایک مر جائے تو تم نے کبھی بھی اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کرنی“ ۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل کی : ” ان کے لئے برابر ہے خواہ تم ان کے لئے دعائے مغفرت کرو یا تم ان کے لئے دعائے مغفرت نہ کرو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں کرے گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ کافی دیر آپ کے پاس بیٹھا رہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران تین مرتبہ باہر تشریف لے گئے تاکہ وہ بھی آپ کے پیچھے باہر آ جائے ، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا ، اسی دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، انہوں نے اس شخص کے بیٹھنے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری کے اثرات محسوس کیے ، تو انہوں نے کہا: شاید تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچائی ہے ، وہ شخص بات سمجھ گیا اور اٹھ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تین مرتبہ اٹھا تاکہ تم میرے پیچھے جاؤ اور تم نے ایسا نہیں کیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ حجاب اختیار کر لیں تو یہ مناسب ہو گا ، کیونکہ آپ کی ازواج دیگر خواتین کی طرح نہیں ہیں ۔ یہ چیز ان کے دلوں کے لئے زیادہ طہارت کا باعث ہو گی ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اے ایمان والو ! تم نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو ، البتہ جب تمہیں کھانے کے لئے اجازت دی جائے تو حکم مختلف ہے اور اس صورت میں بھی تم برتن کی طرف دیکھنے والے نہ ہو ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر انہیں اس بارے میں بتایا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے قیدیوں کے بارے میں مشورہ لیا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کی قوم سے حیا کرتا ہوں ( یا آپ اپنی قوم کے حوالے سے حیاء کا رویہ اختیار کریں ) اور ان سے فدیہ لے لیں ، اس حوالے سے آپ مدد حاصل کریں ( یعنی آپ اس فدیہ کو مختلف کاموں میں استعمال کریں ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گزارش کی کہ آپ انہیں قتل کروا دیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم دونوں کی ایک رائے ہوتی تو ہم نے تمہاری رائے کی خلاف ورزی نہیں کرنی تھی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قول کو اختیار کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” نبی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے پاس ( کفار ) قیدی ہوں ( اور وہ انہیں فدیہ لے کر آزاد کر دے ) اس کو زمین میں ( ان کافروں کا ) اچھی طرح خون بہانا چاہیے ، تم لوگ دنیاوی مال و اسباب چاہتے ہو اور اللہ تعالیٰ آخرت ( کی بھلائی ) کا ارادہ کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : یہ آیت نازل ہوئی : ” اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے تخلیق کیا ہے ، اور پھر اسے ایک مضبوط ( یا محفوظ ) جگہ ( یعنی رحم ) میں نطفہ کی شکل میں رکھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ ( اگلی ) آیت کے آخر تک ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے ، جو سب سے اچھا خالق ہے ، تو یہ آیت نازل ہوئی : ” اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے ، جو سب سے اچھا خالق ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اگر تم دونوں کی رائے ایک ہوتی تو ہم نے تمہاری رائے کے خلاف نہیں کرنا تھا ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ بن فضیل بن عیاض ہے ، اور وہ کمزور ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14431
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12244)»